خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 266
266 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے حالات دیکھتے ہوئے دنیا کی مختلف قوموں کی وقتا فوقتا اٹھتی ہوئی اور پیدا ہوتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر نصائح کرتا ہے جس سے قومی وحدت اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔سب کا قبلہ ایک طرف رکھتا ہے۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل تصویر ہمارے سامنے ہے۔اور جماعت احمدیہ میں یہ تصویر ہمیں نظر آتی ہے۔جبکہ خلیفہ وقت کا خطبہ بیک وقت دنیا کے تمام کونوں میں سنا جا رہا ہوتا ہے۔اور مختلف مزاج اور ضروریات کے مطابق بات ہوتی ہے۔میں جب خطبہ دیتا ہوں، جب نوٹس لیتا ہوں تو اُس وقت صرف آپ جو میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، وہی مد نظر نہیں ہوتے۔بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی جو مجھے رپورٹس آتی ہیں اُن کو سامنے رکھتے ہوئے کبھی زیادہ زور یورپ کے حالات کے مطابق خطبہ میں ہو۔کبھی ایشیا کے کسی ملک کے حالات کے مطابق ہو یا عمومی طور پر اُن کے حالات کے مطابق ہو۔کبھی افریقہ کے مطابق ہو۔کبھی جزائر کے مطابق ہو۔لیکن اسلام چونکہ ایک بین الا قوامی مذہب ہے اس لئے ہر بات جو بیان ہو رہی ہوتی ہے وہ ہر ملک اور ہر طبقے کے احمدیوں کے لئے نصیحت کا رنگ رکھتی ہے۔چاہے کسی کو بھی مد نظر رکھ کر بات کی جارہی ہو کچھ نہ کچھ پہلو ان کے اپنے بھی اُس میں موجود ہوتے ہیں۔مجھے خطبے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک سے خط بھی آتے ہیں، روس کی ریاستوں کے مقامی باشندوں کی طرف سے بھی آتے ہیں، افریقہ کے مقامی باشندوں کی طرف سے بھی آتے ہیں اور دوسرے ممالک کے مقامی باشندوں کی طرف سے بھی آتے ہیں اور یہ اظہار ہوتا ہے کہ یوں لگتا ہے یہ خطبہ جیسے ہمارے لئے ہے۔بہر حال اقامت صلوۃ کی ایک تشریح یہ بھی ہے جو خلافت کے ذریعہ سے آج دنیائے احمدیت میں جاری ہے۔پھر زکوۃ کی ادائیگی ہے یا تزکیہ اموال ہے، جس میں زکوۃ بھی ہے اور باقی مالی قربانیاں بھی ہیں۔یہ بھی آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں صرف جماعت احمدیہ کے ذریعے سے ہی جاری ہے اور خلیفہ وقت کی ہدایت کے ماتحت دنیا میں چندے کے نظام کے ذریعے سے افراد جماعت اور جماعتوں کی ضروریات پوری ہو رہی ہوتی ہیں۔ایک ملک میں اگر کمی ہے تو دوسرے ملک کی مدد سے اُس کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ایک جگہ اگر زیادہ مالی کشائش ہے تو غریب ملکوں کی تبلیغ کی، اشاعت لٹریچر کی، مساجد کی تعمیر کی جو ضروریات ہیں وہ اور مختلف طریقوں سے پوری کی جاتی ہیں۔تو یہ ایک نظام ہے جو خلیفہ وقت کے تحت چل رہا ہوتا ہے۔کہیں غریبوں کی ضروریات پوری ہو رہی ہوتی ہیں۔کہیں طبی ضروریات پوری ہو رہی ہوتی ہیں۔کہیں تعلیمی ضروریات پوری کی جارہی ہوتی ہیں۔کہیں تبلیغ اسلام کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نظامِ وصیت اور نظام خلافت کو اکٹھا بیان فرمایا ہے تو اس میں ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔اور پھر لوگ جو چندہ دیتے ہیں وہ خلافت کے نظام کی وجہ سے اس اعتماد پر بھی قائم ہیں کہ اُن کا چندہ فضولیات میں ضائع نہیں ہو گا بلکہ ایک نیک مقصد کے لئے استعمال ہو گا۔بلکہ غیر از جماعت بھی یہ اعتما در کھتے ہیں کہ اگر ہم زکوۃ احمدیوں کو دیں تو اس کا صحیح مصرف ہو گا۔گھانا میں مجھے کئی لوگ