خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 226

226 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اپنے مشن میں کامیاب ہوئے۔اُس مقصد میں کامیاب ہوئے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے اُن کو بھیجا تھا۔پوپ کے حوالے سے یہ وضاحت، یہ بیان جو میں نے کیا ہے، اس لئے بھی بیان کیا ہے کہ آج کل سکولوں میں بھی کافی discussion ہو رہی ہے اور بچے اور نوجوان معجزہ کے بارے میں باتیں سنتے ہیں، ذکر سنتے ہیں اور پھر بعض دفعہ متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔تو انہیں یہ پتہ چلے کہ حقیقت کیا ہے؟ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا جو مقام ہے وہی اصل مقام ہے ، بلند مقام ہے۔اور آپ کی زندگی سے لے کر آج تک آپ کے وصال کے بعد بھی یہ معجزات ہوتے چلے جارہے ہیں اور نمونے قائم ہو رہے ہیں۔آپ کے ماننے والوں میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو معجزات دکھانے والے ہیں۔ہم احمدی تو بڑے وثوق سے اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ آج بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے طفیل اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا چلا جارہا ہے۔اور اس یقین پر بھی ہم قائم ہیں اور اس ایمان پر قائم ہیں کہ کسی سینٹ (Saint) کی کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہے۔قرآنِ کریم کی تعلیم پر عمل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی سے خد املتا ہے۔عیسائی تو یہ خاص مقام کسی کو کسی کے مرنے کے بعد دلوار ہے ہیں اور وہ بھی خدا تعالیٰ نہیں دے رہا بلکہ لوگ دے رہے ہیں۔یہ مقام، جس کی حقیقت بھی اب پتہ نہیں کہ وہ معجزات تھے کہ نہیں تھے۔بلکہ پولینڈ کے ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا ہے اور اس پر اعتراض کیا ہے کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹروں کی جو ٹیم بعض معجزات کے فیصلے کرتی ہے ، ان کی تشخیص صحیح بھی ہو کہ نہیں۔جس عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس کو پارکنسن (Parkinson) تھی، ہو سکتا ہے اُس سے ملتی جلتی کوئی اور بیماری ہو جس کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے اور جو تھوڑے عرصے بعد خود ہی ٹھیک بھی ہو جاتی ہے۔بہر حال اس وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شفاعت کا صحیح اسلامی نظریہ کیا ہے؟ ایک مسلمان کے نزدیک شفاعت کیا ہے؟ اور کیا ہونی چاہئے؟ قرآن شریف میں اس بارہ میں کئی آیات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بہت جگہ پر مختلف آیات کے حوالے سے کھول کر یہ بیان فرمایا ہے کہ شفاعت کی حقیقت کیا ہے ؟ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام یا عیسائیت کے نظریہ کے تعلق میں دو مثالیں میں پیش کر چکا ہوں۔ابھی جو میں نے آیت تلاوت کی ہے، یہ آیتہ الکر سی کہلاتی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے اور ہم عموماً پڑھتے بھی رہتے ہیں۔اکثروں کو یہ ترجمہ آتا بھی ہو گا۔لیکن بہر حال ترجمہ سُن لیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : اللہ ! اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔اُسے نہ تو اونگھ پکڑتی ہے ، نہ نیند۔اُسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔کون ہے جو اس کے حضور شفاعت کرے مگر اُس کے اذن کے ساتھ۔وہ جانتا ہے جو اُن کے سامنے ہے اور جو اُن کے پیچھے ہے۔اور وہ اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین پر ممتد ہے اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اور وہ بہت بلند شان اور بڑی عظمت والا ہے۔