خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 227
227 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اس آیت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمام آیات کی سردار ہے۔(سنن الترمذى كتاب فضائل القرآن باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الكرسي حديث نمبر 2878 ) اور اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ایک خوبصورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔بلکہ یہ بھی روایت ہے کہ سورۃ بقرۃ کی پہلی چار آیات اور آیتہ الکرسی اور اس کے ساتھ کی دو آیات اور آخری تین آیات پڑھنے والے کے گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔(سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن باب فضل أول سورة البقرة و أية الكرسي حديث 3383) یعنی اگر انسان ان کو پڑھے ، اس پر غور کرے، اس کو سمجھے ، اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو شیطان ویسے ہی دور چلا جاتا ہے۔پس ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے کہ اسلامی تعلیم پر عمل ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک ہو اور دل کو ہمیشہ پاک رکھنے کی کوشش ہو۔یہ عمل ہیں جن کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کے بارہ میں احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ انسانی بشری کمزوریوں سے صرفِ نظر فرماتا ہے۔لیکن عمل کچھ نہ ہوں، اللہ تعالیٰ پر یقین نہ ہو ، نمازوں کی طرف توجہ نہ ہو ، خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف بے رغبتی ہو تو صرف پیروں فقیروں یا اولیاء کی قبروں پر دعاؤں پر ہی انحصار کرنے سے بخشش اور شفاعت کے سامان نہیں ہوتے۔یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے کہ صرف پیروں فقیروں پر انحصار کیا جائے۔عیسائیوں کا ظاہری شرک ہے تو یہاں مسلمانوں میں ظاہری بھی اور چھپا ہوا بھی، دونوں طرح کا شرک ملتا ہے۔بہر حال اس آیت میں جو پیغام ہے، اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفاسیر کی روشنی میں ہی بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جو جامع صفات کا ملہ اور ہر ایک نقص سے منزہ ہے۔(ہر ایک نقص سے پاک ہے) وہی مستحق عبادت ہے۔اُسی کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ حي بالذات اور قائم بالذات ہے“ (زندہ رہتا ہے۔اپنی ذات میں زندہ ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا) اور بجز اس کے اور کسی چیز میں حيّ بالذات اور قائم بالذات ہونے کی صفت نہیں پائی جاتی“۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء مر تبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 138۔مطبوعہ قادیان 1899ء) پھر آپ نے وضاحت فرمائی کہ باقی تمام چیزوں میں جو مخلوق ہیں، جو بھی ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ ہی موجود ہو اور پھر قائم بھی رہے۔(ماخوذ ازرپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ء مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی فحہ 138 مطبوعہ قادیان 1899ء) یہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔باقی سب اُس کی مخلوق ہیں۔اُن کو ایک وقت میں زندگی ملتی ہے یا وجود میں آتی ہیں اور پھر ختم ہو جاتی ہیں، قائم نہیں رہ سکتیں، ہمیشہ نہیں رہ سکتیں۔اور جس کی زندگی ہی تھوڑی ہے اور قائم نہیں رہ سکتا اُس نے دعائیں کیا سنتی ہیں۔اُس نے کسی کی دعا کی قبولیت کیا