خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 225

خطبات مسرور جلد نهم 225 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابل غور یہ ہے کہ جب تک نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اور ساری بحثیں فرضی ہیں “۔( یعنی خدا تعالیٰ کا تعلق اور پھر مخلوق سے تعلق اور اُس کا فیض اللہ تعالیٰ کے تعلق کا فیض بھی مخلوق کو پہنچانا، اس کے نتیجے ہونے چاہئیں۔اگر یہ نہیں تو فرضی بحثیں ہیں )۔فرمایا کہ مسیح کے نمونہ کو دیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے۔ہمیشہ اُن کو سست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل کی رو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا“۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ انجیل یہ کہتی ہے کہ اپنے حواریوں کو بھی درست نہیں کیا اور اُنہیں بُرا بھلا کہا) فرمایا کہ ”بالمقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انہوں نے عذاب الیم سے چھڑایا اور گناہ کی زندگی سے اُن کو نکالا کہ عالم ہی پلٹ دیا۔ایسا ہی حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا۔عیسائی جو مسیح کو مشیل موسیٰ قرار دیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ موسیٰ کی طرح اُنہوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو“۔(بائبل میں Old Testament میں حضرت موسیٰ کی مثالیں تو ملتی ہیں لیکن حضرت عیسی کے بارے میں نہیں۔جو بھی کہا ہے پولوس (Paul) نے کہا ہے یا کچھ اور لوگوں نے جن کے نام تعارف میں نہیں دیئے جاتے۔) فرمایا بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت ہی بگڑ گئی اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تو لنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جا کر دیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھڑا دیا ہے یا پھنسا دیا ہے“۔(اب جو گناہ ہے ، گناہ کی تعریف ہے، جو برائی ہے۔اگر اُس کی تعریف بدل دی جائے، برائیاں آزادی اور نیکیاں شمار ہونے لگیں تو پھر تو بے شک ان کی تعلیم یاجو عمل ہے وہ ٹھیک ہے۔لیکن آپ نے فرمایا کہ جو حقیقی برائیاں ہیں، اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں ہیں، انسان کا انسانیت سے یا اخلاقی لحاظ سے باہر نکلنا وہ برائیاں تو یورپ میں بہت زیادہ ہیں۔اس لئے یہ گناہ سے نکالنا نہیں ہے بلکہ گناہ میں اور ڈ بونا ہے ) فرمایا کہ میرے دعوے ہی دعوے ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔پس عیسائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح چھوڑانے کے لئے آیا تھا ایک خیالی بات ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑ گئی اور روحانیت سے بالکل دور جا پڑی۔( بلکہ چرچ تو اب خود کہتے ہیں کہ روحانیت سے ہم بہت دور ہٹتے چلے جا رہے ہیں) فرمایا کہ ”ہاں سچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنادیا اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپ کی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالی نمونہ بھیج دیتا ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 160،159 مطبوعہ ربوہ) تو یہ ہے اصل تصویر جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیت کی دکھائی ہے کہ بائبل کی رُو سے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی زندگی میں اپنے حواریوں کی اصلاح نہ کر سکنا ثابت ہے۔پھر صلیبی موت جو اُن کے نزدیک لعنتی موت بھی ہے۔یہ بھی یہودیوں کے نزدیک تو ایک برائی تھی گو اُس کی جو مرضی تاویلیں اب پیش کی جائیں۔گو ہم احمدی مسلمان اس بات کو نہیں مانتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نبی کو بھی اپنے اُن تمام الزامات سے بچایا جو یہودی آپ پر لگانا چاہتے تھے اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک لمبی عمر پائی اور