خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 208

خطبات مسرور جلد نهم 208 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 2011ء بمطابق 29 شہادت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بعض کتب میں اپنے مسیح و مہدی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے حق کی تلاش کرنے والے علماء وصلحاء اور عوام الناس کو اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ بلاوجہ تکفیر کے فتوے لگانے یا عوام الناس کو بغیر سوچے سمجھے علماء کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے۔لیکن شرط یہ ہے کہ خالی الذہن ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں تو یقینا اللہ تعالی رہنمائی فرمائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ایک کتاب ”نشانِ آسمانی“ میں یہ طریق بھی بتایا ہے کہ توبتہ النصوح کر کے رات کو دور کعت نماز پڑھو۔پہلی رکعت میں سورۃ یسین پڑھے ، دوسری رکعت میں اکیس مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے ، پھر بعد اس کے تین سو مر تبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے کہ تو پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے ، اس شخص کے بارے میں مجھ پر حق کھول دے۔پھر اس میں آپ نے دوبارہ یہ تاکید فرمائی ہے کہ اپنے نفس سے خالی ہو کر یہ استخارہ کرنا شرط ہے۔لیکن اول تو توبتہ النصوح ہی بہت بڑی کڑی شرط ہے۔اس پر عمل ہی کوئی نہیں کرتا اور خاص طور پر علماء تو بالکل ہی نہیں آپ نے فرمایا کہ اگر دل بغض سے بھر اہو اور بد ظنی غالب ہو تو پھر شیطانی خیالات ہی آئیں گے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بہت دعا کرتے ہیں ہمیں تو کوئی سچائی نظر نہیں آئی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر دل میں ہی کینہ بھر اہوا ہے ، نبض بھرا ہوا ہے تو پھر شیطان نے رہنمائی کرنی ہے۔پھر خدا تعالی رہنمائی نہیں کرتا۔(ماخوذاز نشان آسمانی روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 401،400) اسی طرح علماء اور صلحاء کو خاص طور پر اپنی کتاب ”کتاب البریہ “ میں مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ سے مدد (ماخوذ از کتاب البر به روحانی خزائن جلد نمبر 13 صفحہ 364) چاہنے کی تجویز دی۔لیکن بغض سے بھرے ہوئے علماء اس تجویز پر کبھی عمل نہیں کرتے اور عوام الناس کو بھی اپنے ساتھ