خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 209
خطبات مسرور جلد نهم 209 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء ڈبو رہے ہیں۔بہر حال اس کے باوجود بہت سے سعید فطرت ہیں جو اس نسخے کو آزماتے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی رہنمائی فرمائی اور اس کے علاوہ بعض سعید فطرت ایسے ہیں جو نیکی کی تلاش میں رہتے ہیں اُن کی اللہ تعالیٰ ویسے بھی رہنمائی فرماتا ہے۔بہر حال اس زمانے میں بھی آج کل بھی اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے اُن لوگوں کی رہنمائی فرماتا چلا جا رہا ہے جو حق کی تلاش میں سنجیدہ ہیں۔اس وقت میں ایسے ہی لوگوں کے چند واقعات پیش کروں گا۔تبشیر کی رپورٹ کے مطابق جو عربی ڈیسک نے اُن کو دی کہ اس ماہ اپریل کے اَلحِوَارُ المُبَاشِر میں ایم۔ٹی۔اے تھری پر جو عربی پروگرام آتا ہے اس میں ایک مصری دوست مکرم عبدہ بکر محمد بکر صاحب نے فون کر کے بتایا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق استخارہ کیا اور یہ دعا کی تو اسی رات رؤیا میں دیکھا کہ میں اپنے ایک سلفی رشتے دار کو اپنے ہاتھ کی انگلی ہوا میں لہراتے ہوئے بڑے جوش سے کوئی بات کہہ رہا ہوں لیکن میرے الفاظ مجھے سنائی نہیں دیتے۔جب میں خواب سے بیدار ہوا تو اگلے دن پھر اسی طریق پر دعا کی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ اے اللہ ! مجھے کوئی واضح چیز دکھا جس سے انشراح صدر ہو جائے۔چنانچہ میں نے دوبارہ وہی رؤیا دیکھا کہ میں اپنے اسی رشتے دار کے سامنے کھڑ ا ہوں اور اپنے ہاتھ کی انگلی لہراتے ہوئے تین بار کہتا ہوں کہ واللهِ الْعَظِيمِ إِنَّ الْجَمَاعَةَ الْأَحْمَدِيَّةَ جَمَاعَةُ الْحَقِّ یعنی خدائے عظیم کی قسم ہے کہ جماعت احمدیہ ہی کچی جماعت ہے۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت کی توفیق دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ایک دن دعا کر کے نہ بیٹھ جاؤ بلکہ کم از کم اس سنجیدگی سے دو سے تین ہفتے یازیادہ دعا کرو۔جب اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہو تو اللہ تعالیٰ ایک وقت میں رہنمائی فرمائے گا۔(ماخوذ از نشان آسمانی روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 401) پھر ہمارے امریکہ کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ عبدل سلیم صاحب پچھیں، تیس سال پہلے نجی سے لاس انجلیس امریکہ آئے تھے اور عیسائی ماحول ہونے کی وجہ سے عیسائیت قبول کر لی مگر بعد ازاں ایک مسلمان کی تبلیغ سے پھر اسلام کی طرف رجوع کیا۔کہتے ہیں اُن کی دوستی خاکسار ( یعنی ہمارے جو مبلغ ہیں انعام الحق کو ثر اُن) سے ہو گئی اور یہ ہماری مسجد میں آنے لگے۔انہیں احمدیت کے متعلق تفصیل بتائی۔مطالعہ کے لئے لڑیچر دیا اور یہ مشورہ دیا کہ وہ دعا کر کے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کریں۔اور دعائے استخارہ کا مسنون طریقہ بتایا۔چنانچہ انہوں نے استخارے کی دعا کی اور خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نظر آئے۔اگلے روز وہ حسب عادت غیر احمدیوں کی مسجد میں گئے۔وہاں عرب سے کوئی شیخ آئے ہوئے تھے۔اس شیخ نے حاضرین کو سوال کرنے کی دعوت دی تو عبدل سلیم صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ قرآن و حدیث کے مطابق یہ زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کا ہے۔چنانچہ میں نے دعا کی کہ اے خدا! تو مجھے بتا۔کیا امام مہدی آگئے ہیں؟ اور اگر آگئے ہیں تو کون ہیں ؟ تو کہتے ہیں میں نے اُن کو بتایا کہ میری خواب میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آئے۔اس پر شیخ نے کہا کہ یہ