خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد نهم 191 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء پھر آپ نے عوام کو بھی مخاطب کر کے فرمایا، جو آج کل ہر تالیں کر رہے ہیں کہ : سنو تم اگر نیکو کار ہوتے تو بادشاہ بھی تمہارے لئے صالح بنائے جاتے“ تم نیک ہوتے تو بادشاہ بھی نیک ہوتے)۔اس لئے کہ متقیوں کے لئے خدا تعالیٰ کی ایسی ہی سنت ہے۔اور مسلمان بادشاہوں کی مدح سرائی سے باز آؤ اور اگر اُن کے خیر خواہ ہو تو اُن کے لئے استغفار پڑھو۔۔۔“۔فرمایا: ”۔۔۔خدا نے انہیں تمہارے حق میں ساز و سامان اور تمہیں ان کے آلات بنایا ہے۔سواگر مخلص ہو تو تقویٰ اور نیکی پر ایک دوسرے کے مددگار بن جاؤ۔اور انہیں ان کی بد کرداریوں پر آگاہ کرو اور لغویات پر انہیں اطلاع دو اگر تم منافق نہیں۔واللہ وہ اپنی رعیت کے حقوق ادا نہیں کرتے۔۔۔“۔( فرمایا کہ سمجھانا بالکل ٹھیک ہے ، ضروری ہے۔جائز ہے کہ بادشاہ کے سامنے حق بات کہنی چاہئے۔) فرماتے ہیں کہ ”۔۔۔قسم بخدا ان کے دل پہاڑوں کے پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں۔۔۔۔۔۔وہ کبھی خدا کے حضور گڑ گڑاتے نہیں۔ان فعلوں اور عملوں سے ثابت ہو گیا کہ انہوں نے خدا کو ناراض کر کے گمراہی کے طریق اختیار کئے ہیں اور خود قاتل زہر کھا کر رعیت کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے سو ان کے لئے وبال سے دوحصے ہیں۔۔۔“۔فرمایا”۔۔۔سواے متکلو ! تم میں کوئی ایسا ہے جو انہیں ان عادات کے نتیجوں پر آگاہ کرے۔اس لئے کہ ان لوگوں نے ناپاک خواہشوں کے پیچھے اپنا دین کھو دیا ہے اور تمام احوال میں آخول بن گئے ہیں،، ( یعنی ان کی نظریں ٹیڑھی ہو گئی ہیں۔بھینگے ہو گئے ہیں) فرمایا بلکہ میرے نزدیک تو وہ بالکل اندھے ہیں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ان کی اطاعت کو چھوڑ کر ان سے جنگ و جدال کرو“۔( بڑا واضح فرمایا۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم ان کی اطاعت کو چھوڑ کر ان سے جنگ و جدال کرو۔کلمہ حق کہو۔جنگ کے لئے اجازت نہیں ہے۔اور پھر دعا ہے۔دعا کی طرف پہلے توجہ دلائی۔استغفار کی طرف توجہ دلائی) میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ان کی اطاعت کو چھوڑ کر ان سے جنگ و جدال کر و۔بلکہ خدا سے ان کی بہتری مانگو تا کہ وہ باز آجائیں۔اور یہ تو ان سے امید نہ رکھو کہ وہ اصلاح کر سکیں گے ان باتوں کی جنہیں دجال کے ہاتھوں نے بگاڑ دیا ہے یا وہ اس قدر تباہی اور پریشانی کے بعد ملت کی حالت کو درست کر لیں گے۔اور تم جانتے ہو کہ ہر میدان کے لئے خاص خاص مرد ہوا کرتے ہیں اور کیا ممکن ہے کہ مردہ دوسروں کو زندہ کر سکے یا گمراہ دوسروں کو ہدایت دے۔۔۔۔۔۔۔تو پھر ان سے کیا اُمید رکھ سکتے ہو۔ہمیں تو امید نہیں کہ وہ سنور جائیں جب تک انہیں موت ہی آکر بیدار نہ کرے۔ہاں وعظ و پند کرنے کا ہمیں حکم ہے۔۔۔“۔(نصیحت کرنے کا حکم ہے وہ کرتے چلے جارہے ہیں)۔فرمایا۔۔۔ان میں فراست کی قوت اور اصولِ مُلک داری کا علم نہیں۔انہوں نے چاہا کہ اپنے عیسائی پڑوسیوں کی مکاریوں کو سیکھیں لیکن باریک فریبوں اور بچاؤ کی تدبیروں میں ان تک پہنچ نہ سکے۔سو وہ اس مرغ کی مانند ہیں جس نے پرواز میں کر گس بننا چاہا۔۔۔“۔