خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد نهم 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء لئے کہ خدا کی آنکھوں کے سامنے انہوں نے بے فرمانیاں کیں سو اس نے انہیں دکھایا جو دکھایا اور انہیں آفات میں چھوڑ دیا اور نہ بچایا اور ان کے وزیر بد دیانت اور خائن ہیں۔۔۔“۔پھر آپ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ ان کے جتنے وزیر اور مشیر ہیں وہ اپنے وزیر اور مشیر ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے بلکہ بد دیانتی میں ان سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور بد دیانتی کی طرف ان لوگوں کو لے کر جارہے ہیں۔آگے لکھتے ہیں کہ یورپ کے اخبار انہیں ست اور نالائق لکھتے ہیں“۔الهدى والتبصرة لمن يرى، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 287 تا 289) اور آج بھی یہ حقیقت ہے)۔پھر آپ فرماتے ہیں۔۔۔مردوں کی خُوبُو اُن میں رہی ہی نہیں۔۔۔“ ”۔۔۔نماز کی پابندی نہیں کرتے اور خواہشیں ان کی راہ میں چٹان اور روک بن گئی ہیں اور اگر نماز پڑھیں بھی تو عورتوں کی طرح گھر میں پڑھتے ہیں اور متقیوں کی طرح مسجدوں میں حاضر نہیں ہوتے۔۔۔“۔(الهدى والتبصرة لمن يرى، روحانی خزائن جلد 18۔صفحہ 292۔کمپیوٹرائزڈایڈیشن) پھر فرمایا: ” اور وعظ کی کوئی بات سن نہیں سکتے۔جھٹ کبر اور نخوت کی عزت انہیں جوش دلاتی ہے اور غضب اور غیرت میں نیلے پیلے ہو جاتے ہیں۔اور اُن کے نزدیک بڑا مکرم وہ ہوتا ہے جو ان کا حال انہیں خوبصورت کر کے دکھائے اور ان کی اور ان کے اعمال کی تعریف کرے۔۔۔“۔یعنی صرف خوشامدی ان کو پسند ہے۔پھر فرمایا کہ۔۔۔جب خدا نے ان کا فسق و فجور اور ظلم اور جھوٹ اور اترانا اور ناشکر گزاری دیکھی۔اُن پر ایسے لوگوں کو مسلّط کیا جو اُن کی دیواروں کو پھاندتے اور ہر بلند جگہ پر چڑھ جاتے ہیں اور ان کے باپ دادوں کی ملکیت پر قبضہ کرتے ہیں اور ہر ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں۔اور یہ سب کچھ ہونے والا تھا اور تم قرآن میں یہ باتیں پڑھتے ہو اور سوچتے نہیں۔۔۔“۔جیسا کہ میں نے کہا معیشت کی صورت میں اب مسلمانوں کی ہر چیز غیروں کے قبضے میں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”۔۔۔سو جبکہ انہوں نے دلوں کا تقویٰ بدل دیا خدا نے ان کے امور دنیا کو بدل دیا۔اور اس لئے بھی کہ وہ گناہوں پر دلیر تھے۔اور خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی اندرونی حالت کو آپ نہ بدل لیں اور نہ ہی ان پر رحم کیا جاتا ہے۔بلکہ خدا ان گھروں پر لعنت کرتا ہے اور اُن شہروں پر جن میں لوگ بدکاری اور جرم کریں۔اور بدکاری کے گھروں پر فرشتے اتر کر کہتے ہیں اے گھر خدا تجھے ویران کرے۔“ (الهدى والتبصرة لمن يری۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 292 تا294۔کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن) فرمایا ”بادشاہان نصاری کو مت کو سو“ ( لوگوں کو فرماتے ہیں کہ غیروں کو مت کو سو کہ تمہیں تکلیفیں پہنچارہے ہیں ) ”سو بادشاہانِ نصاری کو مت کو سو اور جو کچھ تمہیں ان کے ہاتھوں سے پہنچا ہے اسے مت یاد کرو۔او بد کار و! خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔کیا تم میری باتیں سنتے ہو۔نہیں نہیں تم تو منہ بناتے اور گالیاں دیتے ہو۔اور تمہیں سننے والے کان اور سمجھنے والے دل تو ملے ہی نہیں اور تمہیں اتنی فرصت ہی کہاں کہ کھانے پینے سے عقل کی طرف آؤ اور خُم کے سے الگ ہو کر خدا کی طرف دھیان کرو اور تم میں سوچنے والے جوان ہی کہاں ہیں۔کیا تم دشمنوں کو کوستے ہو اور تمہیں جو کچھ پہنچا ہے اپنی بد کرداریوں کی وجہ سے پہنچا ہے۔“ (الهدى والتبصرة لمن يری روحانی خزائن جلد 18۔صفحہ 295 کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)