خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد نهم 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء فرمایا کہ۔۔۔عیسائیوں کے مقابل جو کچھ انہیں تقوی اللہ کے متعلق تعلیم ملی تھی اس سے تو منہ پھیر لیا اور اپنے مخالفوں کی طرح وہ چالا کیاں اور داؤ بھی پورے نہ سیکھے اور مسلمان بادشاہوں کی نسبت خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ جب تک متقی نہ بنیں گے ان کی کبھی مدد نہ کرے گا اور اس نے ایسا ہی چاہا ہے کہ نصاری کو ان کے مکر میں کامیاب کر دے جبکہ مومنوں نے اُسے ناراض کیا ہے۔۔۔“۔فرمایا”۔۔۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ وہ اسلام کی حدوں کو کفار سے بچا سکیں گے ؟۔۔۔۔۔۔کیا تم گمان کرتے ہو کہ وہ اسلام کی پناہ میں ہیں۔سبحان اللہ بڑی بھاری غلطی ہے بلکہ وہ تو بد عتوں سے دین خیر الانام کی بیخ کنی کرتے ہیں۔تمہارا اختیار ہے کہ تم ان کی نسبت نیک گمان کرو اور بد کرداریوں سے اُن کی بریت ثابت کرو۔لیکن کن علامتوں سے تم ایسا دعویٰ کرو گے۔کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ حرمین شریفین کے خادم اور محافظ ہیں۔ایسا نہیں بلکہ حرم انہیں بچارہا ہے اس لئے کہ وہ اسلام اور رسول خدا کی محبت کے مدعی ہیں“۔( دعویٰ تو اُن کا ہے کہ ہم اسلام سے محبت کرنے والے ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں، اس لئے وہ حرمین شریفین کی حفاظت نہیں کر رہے بلکہ وہ اُن کو بچا رہا ہے) اور اگر وہ سچی توبہ نہ کریں تو سزا سر پر کھڑی ہے۔سو تم میں کوئی ہے جو انہیں بڑے دنوں سے ڈرائے۔تم دیکھتے نہیں کہ اسلام بیداد گر زمانہ کے ہاتھوں سے چور ہو گیا ہے اور موسلادھار مینہ کی طرح فتنے اس پر برس رہے ہیں۔اور دشمنوں کی فوجیں شکاری کی طرح اس کے پھانسنے کو آمادہ ہیں۔اور اب ایسی کوئی بات نہیں جو دلوں کو خوش کرے اور دُکھوں کو دور کرے۔اور مسلمان جنگل کے پیاسے یا اُس مریض کی طرح ہیں جو سانس تو ڑ رہا ہو۔۔۔“۔فرمایا۔۔۔بعض لوگ تو مسلمانوں پر جنسی اُڑاتے گزر جاتے ہیں اور بعضے روتے ہوئے ان کی طرف دیکھتے ہیں۔اور تم دیکھتے ہو کہ دل سخت ہو گئے ہیں اور گناہ بڑھ گئے ہیں۔اور سینے تنگ ہو گئے اور عقلیں تیرہ و تار ہو گئیں اور غفلت اور سستی اور عصیان کی ترقی اور جہالت اور گمراہی اور فساد کا غلبہ ہو گیا ہے اور تقویٰ کا نام و نشان نہیں رہا۔اور دلوں میں وہ نور جس سے ایمان کو قوت ہو نہیں رہا اور آنکھیں اور زبانیں اور کان پلید ہو گئے ہیں اور اعتقاد بگڑ گئے اور سمجھیں چھینی گئیں اور نادانیاں ظاہر ہو گئی ہیں اور عبادت میں نمود اور زہد میں خود بینی داخل ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔سعادت کے نشان مٹ گئے ہیں اور محبت اور اتفاق جاتا رہا اور بغض اور پھوٹ پیدا ہو گئی ہے اور کوئی گناہ اور جہالت نہیں جو مسلمانوں میں نہیں اور کوئی ظلم اور گمراہی نہیں جو ان کی عورتوں اور مردوں اور بچوں میں نہیں۔خصوصاً ان کے امیروں نے راہ حق کو چھوڑ دیا ہے۔۔۔“۔اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا سب کچھ چھوڑنے کے باوجو د علماء نے ان کو اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ عوام بھی احمدیت کی مخالفت میں آگے بڑھے ہوئے ہیں۔گزشتہ دنوں میں ایک مشنری کی رپورٹ میں دیکھ رہا تھا، اُن کا ایک عیسائی دوست ہے جو ان کے پاس ہندوستان میں اپنے کسی مسلمان واقف کار کے ہاں آیا۔اس کو پتہ تھا کہ وہ مسلمان شراب پیتا ہے۔تو کہتا ہے میں نے جان کر اسے سنانے کے لئے کہا، باتوں باتوں میں اسے بتایا کہ بعض احمدی بھی "