خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 119
119 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم گندم دینی ہوتی ہے۔کئی لوگوں کی سالانہ گندم لگائی ہوئی تھی۔یہی حال حضرت شاہ صاحب کا تھا۔سید داؤد مظفر شاہ صاحب میرے خالو بھی تھے اور خسر بھی۔اُن کی بے شمار خوبیاں تھیں۔اُن کی خوبیوں یا اپنی خالہ کی خوبیوں کا میں اس لئے ذکر نہیں کر رہا کہ قرابت داری تھی، رشتے داری تھی یا دامادی کی وجہ سے تعلق تھا۔اُن دونوں کو میں نے بچپن سے ہی اس طرح دیکھا ہے جس کا طبیعت پر بڑا اثر تھا۔خاموش، دعا گو ، بچوں سے بھی ہنس کے ملنا، خوش اخلاقی سے ملنا، عزت و احترام دینا اور ہر قسم کی دنیا داری کی باتوں سے پاک تھے۔ہمارے ایک عزیز نے لکھا اور بڑا صحیح لکھا کہ سید داؤد مظفر شاہ صاحب بہت پیارے وجو د تھے۔خاموش، دعا گو اور ہر وقت زیر لب دعاؤں میں مصروف۔دُکھ درد میں دوسروں کے کام آنے والے اور عبادت میں گہرا شغف رکھنے والے تھے۔آپ کی بعض اور خصوصیات اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے سلوک کا بھی ذکر کروں گا لیکن پہلے نہال کے بارہ میں بتا دوں۔جیسا کہ میں نے کہا نہال بھی، ان کے نانا حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی صحابی تھے جو جماعت میں بزرگی کا ایک مقام رکھتے ہیں۔بڑا لمبا عرصہ مفتی سلسلہ بھی رہے۔آپ کی نمازوں کی لمبائی اور گہرائی کا پرانے بزرگ بڑا ذ کر کرتے ہیں۔سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں کسی نے لکھا کہ حضرت مولوی صاحب ایک دفعہ مسجد میں کھڑے سنتیں پڑھ رہے تھے یا نفل پڑھ رہے تھے اور بڑی دیر سے ایک ہی نیت باندھ کے ، ایک کونے میں لگے ہوئے کھڑے تھے۔کہتے ہیں کہ کافی وقت گزر گیا تو تجسس پیدا ہوا کہ جاکر دیکھوں یہ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو وہ شخص جب اُن کے قریب گیا تو دیکھا کہ ہلکی آواز میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : 5) بار بار دہرائے جا رہے ہیں اور بڑا لمبا عرصہ اُسی طرح دہراتے رہے۔حضرت سید سرور شاہ صاحب باجماعت نمازیں بھی پڑھایا کرتے تھے ، امامت کروایا کرتے تھے اور باجماعت نمازیں بھی ان کی بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا سید داؤد مظفر شاہ صاحب ان کے نواسے تھے۔دعاؤں میں اور اعلیٰ اخلاق میں اعلیٰ معیار سید داؤد مظفر شاہ صاحب کو دونوں طرف سے ورثہ میں ملا تھا۔بزرگوں کے نقش قدم پر چلنا اور اُسے نبھانا بھی کسی کسی کا کام ہے، ہر کوئی نہیں کرتا۔لیکن سید داؤد مظفر شاہ صاحب نے اسے خوب نبھایا۔یہ ان بزرگوں میں سے تھے جن کو جب دعا کے لئے کہہ دو تو اس وقت تک دعا کرتے رہتے تھے جب تک وہ خود آکر نتائج سے آگاہ نہ کر دے۔مجھے خود بھی پتہ ہے اور بعضوں نے مجھے لکھا بھی کہ اکثر کہتے تھے کہ لوگ دعا کے لئے کہتے ہیں اور پھر بتاتے نہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔سال بعد یا کئی مہینوں بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ تو عرصہ ہوا اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گیا۔لیکن یہ اُس شخص کے لئے دعائیں کرتے چلے جارہے تھے۔کوئی ذراسی بھی ان کی خدمت کر دیتا تو اُس کے ممنونِ احسان ہو جاتے اور بڑی باقاعدگی سے پھر اُس کے لئے نام لے کر دعا کیا کرتے تھے۔جن جن ڈاکٹروں نے اُن کی خدمت کی ہے اُن کے لئے تو بہت دعائیں کرتے تھے۔مکرم ڈاکٹر نوری صاحب ربوہ آنے سے پہلے بھی جب بھی ربوہ آتے تھے ، اگر اُن کو سید داؤد مظفر شاہ صاحب کو دیکھنے کے لئے بلایا جاتا یا اُن کی کسی بیماری کے بارہ میں کہا جاتا تو ضرور آکے دیکھا کرتے تھے۔اور شاہ صاحب بھی اُن کے لئے پھر بہت دعائیں کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ اُن کی دعائیں ہمیشہ جاری رکھے کیونکہ ڈاکٹر صاحب بھی بڑے نافع الناس وجو د ہیں۔اسی طرح