خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 120
120 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ڈاکٹر عبد الخالق صاحب بھی با قاعدہ حضرت شاہ صاحب کے علاج کے لئے آیا کرتے تھے۔ایک لمبے عرصے سے سید داؤد مظفر شاہ صاحب دل کے مریض تھے۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ زیادہ طبیعت بگڑ گئی اور ڈاکٹروں کو بلانا پڑا تو ڈاکٹر خالق صاحب فوراً پہنچتے تھے۔ڈاکٹر خالق صاحب نے مجھے لکھا کہ جب بھی میں اُن کی بیماری میں جاتا تھا یا وہ ہسپتال میں داخل ہوتے تھے تو ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کو کہا کرتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب دعا کریں کہ کبھی ایسا وقت نہ آئے جب دعا اور عبادت سے محروم رہ جاؤں۔اور میرا انجام بخیر ہو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انجام بخیر کی تو بعض لوگوں کو خواہیں بھی دکھائیں۔اُن کے ایک بھتیجے نے ہی دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع آئے ہیں (چند دن پہلے کی بات ہے) اور سید داؤد مظفر شاہ صاحب کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔خود انہوں نے بھی دیکھا۔یہ ایک لمبی خواب ہے لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک گرسی اُن کے لئے مخصوص کی ہوئی ہے۔ایک خاتون جو اُن کو زیادہ نہیں جانتی تھیں، انہوں نے بھی دیکھا جس کا خلاصہ یہ ہے ( ایک لمبی خواب ہے) کہ اُن کے دل میں ( اس خاتون کے دل میں) خواب میں ہی ڈالا جاتا ہے کہ شاہ صاحب ایک بڑے بزرگ ہیں۔ایسے بزرگ جن کا خدا تعالیٰ کے پاس ایک بڑا مقام ہے۔خود بھی انہوں نے ایک دفعہ یہ خواب دیکھی کہ اُن کی اہلیہ سیدہ امتہ ا حکیم بیگم صاحبہ ایک جگہ ہیں جو بہت اونچی جگہ ہے۔وہ وہاں بہت خوش ہیں اور آپ کو کہتی ہیں کہ آپ بھی آجائیں۔تو اس پر کسی فرشتے نے یا خدا تعالیٰ نے کہا۔آواز آتی ہے کہ یہ ابھی نہیں آئے گا کیونکہ اس نے ابھی کچھ دعائیں کرنی ہیں۔دعاؤں اور عبادت میں شغف تو ان کو اپنے دادا کی تربیت کی وجہ سے بھی ہوا۔نانا کی صحبت کی وجہ سے بھی ہوا۔دادا کے پاس یہ رہتے تھے۔حضرت سید ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحب آخری عمر میں جب بہت زیادہ کمزور ہو گئے تو آپ نمازوں کے لئے مسجد نہیں جایا کرتے تھے لیکن گھر پر نماز با جماعت کا اہتمام فرماتے تھے اور سید داؤد مظفر شاہ صاحب سے امامت کروایا کرتے تھے۔اُس وقت اُن کی عمر سترہ سال تھی۔سید داؤد مظفر شاہ صاحب اس بارہ میں خود اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت شاہ جی ( یعنی ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب) کی آخری عمر کے حصے میں میں نے اکثر ان کو نمازیں باجماعت پڑھائی تھیں۔خصوصاً جمعہ کی نمازیں۔وہ نماز باجماعت کے بڑے ہی پابند تھے۔جب تک صحت مند رہے مسجد میں جا کر نمازیں پنجوقتہ ادا کیا کرتے تھے۔جب چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے تو پھر نمازیں گھر میں ہی باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔اس کے لئے ایک مسجد نما تھڑاگھر کے اندر اور ایک مسجد نما چبوترا باہر باغ کے اندر بنوایا تھا۔وہاں مغرب کی نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔اس نماز میں باہر کے چند دوست آکر شریک ہوا کرتے تھے۔مغرب کی نماز کے بعد عموماً روزانہ حضرت شاہ جی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں سنایا کرتے تھے “۔شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ”ایک دفعہ جمعہ کی نماز میں نے نہیں پڑھائی مسجد اقصیٰ میں پڑھنے چلا گیا۔واپس آیا تو حضرت شاہ جی ( بڑے ) ناراض ہوئے۔کہنے لگے تم نے مجھے نماز نہیں پڑھائی۔تمہارا اتبا آئے گا ( یعنی ان کے والد سید محمود اللہ شاہ صاحب جو افریقہ میں تھے ) تو میں تمہاری شکایت کروں گا“۔اُس کے بعد پھر شاہ صاحب ( حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب) کچھ عرصے بعد ہی وفات پاگئے۔