خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 118

خطبات مسرور جلد نهم 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے یہ بیٹے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی دامادی میں آئے ، یہ سید داؤد مظفر شاہ صاحب تھے اور انہوں نے بھی اپنے باپ دادا کی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی خصوصیات بہت زیادہ لی ہوئی تھیں۔عبادت میں شغف، قرآنِ کریم سے محبت ، عاجزی اور انکساری، ہر ایک سے نہایت ادب اور احترام سے ملنا یہ آپ کا خاصہ تھا۔بلکہ اپنی اہلیہ کے چھوٹے بھائیوں کی بھی غیر معمولی عزت اور احترام اس لئے کرتے تھے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ہیں۔بعض دفعہ قریبی تعلقات میں اونچ نیچ ہو جاتی ہے لیکن جب بھی آپ سمجھتے کہ ماحول خراب ہو رہا ہے تو نہ صرف خاموش ہو جاتے بلکہ ان چھوٹوں کے ساتھ بھی اس طرح عزت اور احترام کا سلوک کرتے کہ بات بڑی خوش اسلوبی سے ختم ہو جاتی یا وہاں سے اُٹھ کے چلے جاتے۔بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں سے خاص طور پر آپ کی جو اولاد تھی، اُس کی آگے اولادوں کی بھی اس طرح عزت و احترام کیا کرتے تھے کہ عجیب لگا کرتا تھا۔صرف اس لئے کہ اُن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خون کا رشتہ ہے۔بعض دفعہ دوسروں کے لئے ان کے عزت و احترام کو دیکھ کر میں خود بھی محسوس کرتا تھا کہ یہ ضرورت سے زیادہ احترام کرتے ہیں جو میرے خیال میں اُن حالات میں مناسب نہیں ہو تا تھا۔لیکن جو نیکی اور شرافت آپ کی سرشت میں تھی اس کا تقاضا یہی تھا کہ ایسے عمدہ اخلاق کا نمونہ آپ دکھائیں۔سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور اُن کی اہلیہ سیدہ امتہ الحکیم بیگم صاحبہ، یہ بھی ایک خوب اللہ ملائی جوڑی تھی۔نیکیوں کے بجالانے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ گھروں میں میاں بیوی کی بعض دفعہ اس لئے ان بن ہو جاتی ہے کہ یہ خرچ کیوں ہو گیا؟ وہ خرچ کیوں ہو گیا؟ اِس جوڑے کی ان دنیاوی خرچوں کی طرف تو سوچ ہی نہیں تھی۔میں نے دیکھا ہے کہ ان کی کوشش ہوتی تھی کس طرح کسی ضرور تمند کی مدد کی جائے۔اگر میاں نے کوئی مدد کی ہے تو بیوی کہتی کہ اور کر دینی چاہئے تھی۔اگر بیوی نے کی ہے تو میاں کہتا کہ اگر میرے پاس اور مال ہو تا تو میں مزید دے دیتا۔حضرت سید داؤد مظفر شاہ صاحب نے خود بیان کیا کہ سیدہ امتہ الحکیم بیگم صاحبہ جن کی آٹھ نو سال پہلے وفات ہوئی ہے ، وفات کے بعد وہ کئی دفعہ مجھے خواب میں آکے کہتی ہیں کہ فلاں غریب کی اتنی مدد کر دو اور فلاں کو اتنا صدقہ دے دو اور شاہ صاحب فوراً اُس کو عملاً پورا کر دیتے تھے۔جو بھی اُن کی آمد ہوتی تھی اپنے پر تو کم ہی خرچ کرتے تھے دوسروں کو دے دیا کرتے تھے۔دونوں میاں بیوی کو میں نے دیکھا ہے اور بعض لوگوں نے بھی مجھے بتایا ہے کہ اُن کے پاس اگر ہزاروں بھی آتا تھا تو ہزاروں بانٹ دیا کرتے تھے۔یہ پرواہ نہیں کی کہ ہمارے پاس کیا رہے گا؟ میں نے جب اُن کی زمینوں کا انتظام سنبھالا ہے تو جیسے ہمارے زمینداروں کا طریق ہوتا ہے کہ سال کی گندم چاول وغیرہ فصل کی کٹائی کے بعد گھر کے خرچ کے لئے جمع کر لی جاتی ہے۔تو پہلے سال جب میں نے سیدۃ امۃ الحکیم صاحبہ سے پوچھا کہ کتنی گندم چاہئے۔تو انہوں نے مجھے کہا کہ ایک سو بیس مئن۔میں نے کہا کہ آپ کے گھر کا خرچ تو زیادہ سے زیادہ ہیں، پچپیں، تیس من ہو گا۔تو انہوں نے کہا کہ میرا یہی خرچ ہے کیونکہ میں نے بہت سے غریبوں کو بھی