خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 105

105 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بڑھانے کے لئے نبوت کا مقام عطا فرمایا۔لیکن ایسی نبوت جو غیر تشریعی نبوت ہے، ظلی نبوت ہے جو آنحضرت صلی علم کا امتی ہونے کی ایک معراج ہے۔یہ مقام اللہ تعالیٰ نے صرف آنحضرت صلی علیکم کو عطا فرمایا ہے کہ آپ کا امتی آپ کے انتہائی عشق اور غلامی کی وجہ سے نبوت کا اعزاز پا گیا۔لیکن افسوس ہے کہ ہمارے مخالف مسلمانوں کے دوسرے فرقے اپنے علماء کے غلط رنگ میں اس مقام نبوت کی تشریح کی وجہ سے احمدیوں کے خلاف جب موقع ملے ، جہاں موقع ملے ، نہ صرف آوازیں اُٹھاتے رہتے ہیں بلکہ جس حد تک تکلیف پہنچا سکتے ہیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور اس مخالفت میں بعض اوقات تمام حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔بہر حال جماعتیں جب ترقی کرتی ہیں، پھیلتی ہیں تو اس ترقی کو دیکھ کر مخالفین کھلی دشمنیاں کر کے اپنی طاقت کے استعمال سے اور اُن سہاروں کے استعمال سے جن کو وہ بہت طاقتور اور قدرت والا سمجھتے ہیں، اس ترقی کو روکنے کی ہر طرح کوشش کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اندر ہی اندر مختلف طریقوں سے کمزور ایمان والوں کو کم تربیت یافتہ کو یا کچے ذہنوں کو جو جوانی کی عمر میں پہنچنے والے ہوتے ہیں یا جوانی کی عمر میں قدم رکھا ہوا ہوتا ہے، بڑی چالاکی سے اپنی باتوں کے جال میں پھنسانے کی کوشش کر کے انہیں حق سے دور لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو ایک تو اپنے دینی علم میں اضافے کی کوشش کرنی چاہئے، اس کو پتہ ہونا چاہئے میں کیا ہوں ؟ کون ہوں؟ اور کیوں ہوں؟ تاکہ ایسے چھپے دشمنوں کا جواب دے سکیں۔دوسرے سب سے بڑھ کر یہ کہ ایمان کی سلامتی کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے کہ اُس کے فضل کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان کی مضبوطی کے لئے ہر قسم کے ٹیڑھے پن سے بچنے کے لئے یہ دعا بھی سکھائی ہے کہ رَبِّنَا لَا تُزِعُ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 9) کہ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دے، ہمیں ہدایت دینے کے بعد کبھی ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے اور اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔یقینا تو بہت عطا کرنے والا ہے۔پس ایمان کی سلامتی بھی خدا تعالیٰ کی رحمت سے ملتی ہے ، خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہوتی ہے۔اس لئے ایک عاجز بندہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی مدد کا طلب گار رہتا ہے اور رہنا چاہئے۔بعض لوگ بعض دفعہ مجھے خط بھی لکھ دیتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی نہ کہو یا لوگوں کے سامنے اس کا اظہار نہ کیا جائے تو کیا حرج ہے؟ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے ہی اس قسم کی باتیں ہوتی تھیں کہ اس سے جو مخالفت ہے اس میں کمی آجائے گی۔اس لئے اگر یہ لفظ نہ استعمال کیا جائے تو کیا حرج ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : ”جو امور سماوی ہوتے ہیں اُن کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے “ ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا جو بیان ہو گیا اور جو باتیں خدا تعالیٰ نے کہہ دیں، اُن کو کہنے سے ڈرنا نہیں چاہئے ) اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو۔وہ