خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 106

106 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ اُن کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے، جبھی تو لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابِمٍ (المائدة: (55) کے مصداق ہوئے“۔فرمایا ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں“۔فرمایا ”خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔پس ہم نبی ہیں۔ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے“۔( کوئی نئی شریعت والی نبوت نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو منسوخ کر رہی ہو اور نئی کتاب لائے) ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں“۔فرمایا ”بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کو نسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہوں سے ممتاز کرے ؟“۔( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 446,447 مطبوعہ ربوہ) پس فرمایا: یہ الہام تو دوسروں کو بھی ہو جاتے ہیں لیکن کثرت سے جو الہام ہوتے ہیں، کثرت سے اللہ تعالیٰ جو باتیں کرتا ہے تو یہی نبوت کا مقام ہے اور اس تعریف کی رو سے میں نبی ہوں۔ورنہ الہام تو اوروں کو بھی ہو جاتے ہیں۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کھلا اور واضح اعلان ہے اور یہ عین آنحضرت صلی علیکم کی پیشگوئی کے مطابق ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ : میرے اور مسیح موعود کے درمیان کوئی نبی نہیں۔(سنن ابی داود کتاب الملاحم باب خروج الدجال حدیث نمبر4324) پس جب مسیح موعود مانا ہے تو نبی بھی مانناضروری ہے۔باقی رہی مخالفتیں ، تو وہ الہی جماعتوں کی ہوتی ہیں اور ہوتی رہیں گی اور یہی الہی جماعتوں کی نشانی ہے کہ اُن کی مخالفتیں ہوتی ہیں۔بڑے بڑے جابر سلطان اور اُن کے جتھے مقابل پر کھڑے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ترقی کرتی چلی جاتی ہے اور آخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ تمام جتھے ختم ہو جاتے ہیں ، تمام طاقتیں اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہی غالب آتی ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ أَنَا وَ رُسُلی (المجادلة: 22) کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے رسول کے خلاف تدبیریں کرنے والے تمام متکبر خود اپنی ہی تدبیروں کے جال میں پھنس جائیں گے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے جتھے اور ہمارے اوپر ہمارے دنیاوی آقاؤں کی چھت ہمیں نبی اور اس کی جماعت کے خلاف تدبیروں میں کامیاب کر دے گی تو یہ اُن کی بھول ہے۔آخری کامیابی یقینا الہی جماعتوں کی ہی ہوتی ہے۔سازشوں اور جھوٹی سکیمیں بنانے میں چاہے جتنے بھی اُن کے ذہن تیز ہوں، وہ خدا تعالیٰ کی تدبیروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے بھی مومنوں کو یہ کہہ کر تسلی فرمائی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک اصولی فیصلہ اور عمل ہے کہ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَى إِلا بِأَهلِهِ (فاطر: 44) کہ گندی اور ناپاک تدبیریں تو ان تدبیر کرنے