خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 104
خطبات مسرور جلد نهم 104 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2011ء بمطابق 04 امان 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّبِي وَلَا يَجِيقُ الْمَكْرُ السَّبِي إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلًا اَوَ لَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَةً وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَوتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا (فاطر:44-45) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ زمین میں تکبر کرنا چاہتے تھے اور بُرے مکر کرنا چاہتے تھے۔اور بُری تدبیر نہیں گھیر تی مگر خود اس تدبیر کرنے والے کو۔پس کیا وہ پہلے لوگوں (پر جاری ہونے والی اللہ ) کی سنت کے سوا کوئی اور انتظار کر رہے ہیں ؟ پس تو ہر گز اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا اور تو ہر گز اللہ کی سنت میں کوئی تغیر نہیں پائے گا۔کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا کیا انجام ہو ا جو اُن سے پہلے تھے حالانکہ وہ قوت میں اُن سے بڑھ کر تھے ؟ اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں یا زمین میں کوئی چیز بھی اسے عاجز کر سکے۔یقیناوہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) قدرت رکھنے والا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں اور ہم اس یقین پر اور ایمان پر قائم ہیں کہ یقینا آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں کیونکہ ہر آن اللہ تعالیٰ کی تائیدات و نصرت ہم آپ کے شامل حال دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے وعدے کئے انہیں ہم نے پورا ہوتے دیکھا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا آپ سے سلوک ہمارے ایمان اور یقین میں مزید پختگی پیدا کرتا ہے۔بلکہ آپ کے وصال کے بعد بھی جن باتوں کی آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنی جماعت کو اطلاع دی اور ہمیں بتایا ہم اُن باتوں کو بھی پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔پس آنحضرت صلی کم سے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آنحضرت صلی ایم کے کام کو آگے