خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 83
خطبات مسرور جلد نهم 83 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء بہر حال اب میں دوبارہ اُن نشانوں کی طرف آتا ہوں جو مصلح موعود کے نشان کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔یا وہ خصوصیات یا علامات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر اس موعود بیٹے کے متعلق فرمائی تھیں۔وہ بیٹا جس کے ذریعے دنیا میں دین کی تبلیغ ہو گی اور دنیا میں اصلاح کا کام ہو گا۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس سال خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا ہے ، اسی سال کے جلسہ سالانہ میں تقریر فرماتے ہوئے یہ باون علامات بیان فرمائی تھیں جن کا میں مختصر آپ کے الفاظ میں ہی ذکر کر دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں : ” چنانچہ اگر اس پیشگوئی کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں آنے والے موعود کی یہ یہ علامتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قدرت کا نشان ہو گا۔دوسری علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ رحمت کا نشان ہو گا۔تیسری علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قربت کا نشان ہو گا۔چوتھی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فضل کا نشان ہو گا۔پانچویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ احسان کا نشان ہو گا۔چھٹی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ صاحب شکوہ ہو گا۔ساتویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ صاحب عظمت ہو گا۔آٹھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ صاحب دولت ہو گا۔نویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مسیحی نفس ہو گا۔دسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔گیارھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کلمتہ اللہ ہو گا۔بارہویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت اور غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہو گا۔تیرھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سخت ذہین ہو گا۔چودھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سخت فہیم ہو گا۔پندرھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دل کا حلیم ہو گا۔سولہویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ علوم ظاہری سے پر کیا جائے گا۔سترھویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ علوم باطنی سے پر کیا جائے گا۔اٹھارویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔انیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ دوشنبہ کا اس کے ساتھ خاص تعلق ہو گا۔بیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فرزند دلبند ہو گا۔اکیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ گرامی ارجمند ہو گا۔بائیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مظہر الاول ہو گا۔تئیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ مَظْهَرُ الْآخِر ہو گا۔چوبیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مَظْهَرُ الْحَق ہو گا۔پچیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مَظْهَرُ العَلاء ہو گا۔چھبیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ كَانَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاء کا مصداق ہو گا۔ستائیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کا نزول بہت مبارک ہو گا۔اٹھا ئیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کا نزول جلالِ الہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔انتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نور ہو گا۔اور تیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کی رضامندی کے عطر سے ممسوح ہو گا۔اکتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ خدا اس میں اپنی روح ڈالے گا۔بتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔تینتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔چونتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اسیر وں کی