خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 84

خطبات مسرور جلد نهم 84 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء رستگاری کا موجب ہو گا۔پینتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔چھتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔سینتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔اڑتیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دیر سے آنے والا ہو گا۔انتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دور سے آنے والا ہو گا۔چالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فخر رسل ہو گا۔اکتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کی ظاہری برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔بیالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اُس کی باطنی بر کتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔تینتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ یوسف کی طرح اس کے بڑے بھائی اس کی مخالفت کریں گے۔چوالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بشیر الدولہ ہو گا۔پینتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شادی خاں ہو گا۔چھیالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ عالم کباب ہو گا۔سینتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نظیر ہو گا۔اڑتالیسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کلمتہ العزیز ہو گا۔انچاسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے وہ کلمتہ اللہ خان ہو گا۔پچاسویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ناصر الدین ہو گا۔اکیاونویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فاتح الدین ہو گا اور باونویس علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بشیر ثانی ہو گا۔“ ( الموعود۔انوار العلوم جلد نمبر 17 صفحہ نمبر 562 تا 565 مطبوعہ ربوہ) تو یہ علامتیں ہیں جن میں سے ہر ایک علامت جو ہے وہ ایک علیحدہ تقریر کا موضوع بن سکتا ہے، جس کا اس وقت وقت نہیں۔بہر حال یہ علامتیں تھیں۔اگر ہم حضرت مصلح موعود کی زندگی کا جائزہ لیں اور اُس کا مطالعہ کریں، آپ کے باون سالہ دورِ خلافت کو دیکھیں تو ہر علامت جو ہے آپ میں نظر آتی ہے۔اس کی تفصیل میں جانے کا جیسا کہ میں نے کہا وقت نہیں ہے۔بعض باتوں کا تذکرہ میں آگے کروں گا اور یہ تفصیل جو ہے جماعتی لٹریچر میں موجود بھی ہے۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشگوئی شائع فرمائی تو اُس وقت پنڈت لیکھرام نے نہایت گھٹیازبان استعمال کرتے ہوئے ہر پیشگوئی کے مقابلے پر اپنی دریدہ دہنی اور اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کیا۔پنڈت لیکھرام کی اخلاقی حالت اور پیشگوئی پر اس کی جو غیظ و غضب کی حالت تھی اُس کے چند نمونے پیش کرتا ہوں۔اس کو سارا بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ایک دو مثالیں دے دیتا ہوں۔پنڈت لیکھرام نے 18 مارچ 1886ء کو نہایت گستاخانہ لب و لہجے میں ایک مفتر یانہ اشتہار شائع کیا جس میں حرف بحرف خدا تعالیٰ کے حکم سے لکھنے کا ادعا کر کے جواب دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا نا کہ میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا تو وہ لکھتا ہے کہ ”آپ کی ذریت بہت جلد منقطع ہو جائے گی۔غایت درجہ تین سال تک شہرت رہے گی زیادہ سے زیادہ تین سال تک شہرت رہے گی)۔” نیز کہا کہ اگر کوئی لڑکا پیدا بھی ہوا تو وہ آپ کی پیشگوئی میں بیان شدہ صفات سے بر عکس رحمت کا نشان نہیں، زحمت کا نشان ثابت ہو گا۔وہ مصلح موعود نہیں ہو گا مفسد موعود ہو گا۔“ (نعوذ باللہ)