خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 82
خطبات مسرور جلد نهم 82 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 فروری 2011ء نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا اور ایسا ہو گا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مریں گے لیکن خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گر وہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تابروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔تُو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیائے بنی اسرائیل ( یعنی ظلی طور پر ان سے مشابہت رکھتا ہے )۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دل میں تیری محبت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اے منکر و اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندہ کی نسبت شک میں ہو۔اگر تمہیں اس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندہ پر کیا تو اس نشان رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچانشان پیش کرو اگر تم سچے ہو اور اگر تم پیش نہ کر سکو اور یاد رکھو کہ ہر گز پیش نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کیلئے تیار ہے“۔(اشتہار 20 فروری 1886ء - مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 96-97 مطبوعہ ربوہ) آپ نے ضمیمہ اخبار ریاض ہند میں یہ اشتہار دیا تھا۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس چلہ کشی کے نتیجہ میں آپ کو جو بشارتیں دی گئی تھیں یہ اُن کا کچھ ذکر ہے۔اور اس میں ایک بیٹے کی بشارت بھی دی گئی جس کی مختلف خصوصیات ہیں، جس کا تفصیلی جائزہ لیں تو یہ باون خصوصیات بنتی ہیں۔بلکہ ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے اٹھاون بھی بیان فرمائی ہیں۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا تھا کہ مسیح آئے گا تو اس کی اولاد ہو گی جیسا کہ میں نے ابھی پڑھ کے سنایا۔اب اولاد تو اکثر لوگوں کی ہوتی ہے۔اس میں کیا خاص بات ہے؟ آنحضرت صلی اللہ ہم نے اگر پیشگوئی فرمائی تھی تو یقینا کسی اہم بات کی اور وہ یہی بات تھی کہ اُس کی اولاد ہو گی اور وہ ایسی خصوصیات کی حامل ہو گی جو دین کے پھیلانے کا باعث بنے گی، جو توحید کے پھیلانے کا باعث بنے گی، جو آنحضرت صلی کم کے مقام کو دنیا پر ظاہر کرنے کا باعث بنے گی۔اب اس پیشگوئی کے مطابق جس سال میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی پیدا ہوئے ہیں یعنی 1889ء میں، اسی سال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت بھی لی۔اسی سال اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا کہ بیعت بھی لے لو۔اور یوں اس سال میں باقاعدہ طور پر اُس جماعت کی بنیاد ڈالی گئی جس نے اسلام کی تبلیغ کا کام بھی کرنا تھا، اپنی حالتوں کو بھی سنوار نا تھا اور مسیح و مہدی کی بیعت میں آکر آنحضرت کی پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنا تھا اور آپ کے جماعت قائم کرنے کا یہی مقصد تھا۔