خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 598 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 598

598 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں۔تب عمرؓ کو یہ حال دیکھ کر رونا آیا۔آپ نے فرمایا کہ اے عمر! تو کیوں روتا ہے۔حضرت عمر نے عرض کی کہ آپ کی تکالیف کو دیکھ کر مجھے رونا آ گیا۔قیصر اور کسریٰ جو کافر ہیں آرام کی زندگی بسر کر رہے اور آپ ان تکالیف میں بسر کرتے ہیں، تب آنجناب نے فرمایا کہ مجھے اس دنیا سے کیا کام !میری مثال اُس سوار کی ہے کہ جو شدت گرمی کے وقت ایک اونٹنی پر جارہا ہے اور جب دو پہر کی شدت نے اُس کو سخت تکلیف دی تو وہ اُسی سواری کی حالت میں دم لینے کے لئے ایک درخت کے سایہ کے نیچے ٹھہر گیا اور پھر چند منٹ کے بعد اُسی گرمی میں اپنی راہ لی“۔ہیں کہ : (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 299، 300) حضرت عمرؓ کے رتبہ و مقام کے بارے میں ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات اُن کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور اُن کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے۔دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں۔اگر اس اُمت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے “۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 219) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ : بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجا ظاہر ہوں یاکسی اور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسری کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے۔اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسری کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں۔مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجو دخلی طور پر گویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجو د ہی تھا اس لیے عالم وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا“۔ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”جب تک امام کی دستگیری افاضہ علوم نہ کرے تب تک ہر گز ہر گز خطرات سے امن نہیں ہوتا۔اس امر کی شہادت صدر اسلام میں ہی موجود ہے“ (اسلام کے شروع میں موجود ہے) کیونکہ ایک شخص جو قرآنِ شریف کا کاتب تھا اُس کو بسا اوقات نور نبوت کے قرب کی وجہ سے قرآنی آیت کا اُس وقت میں الہام ہو جاتا تھا جبکہ امام یعنی نبی علیہ السلام وہ آیت لکھوانا چاہتے تھے۔ایک دن اُس نے خیال کیا کہ مجھ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق ہے؟ مجھے بھی الہام ہوتا ہے۔اس خیال سے وہ ہلاک کیا گیا اور لکھا ہے کہ قبر نے بھی اُس کو باہر