خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 599
599 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پھینک دیا“۔(فوت ہوا، دفنایا گیا تو قبر نے بھی باہر پھینک دیا) جیسا کہ بلغم ہلاک کیا گیا“ (اس کو بھی اپنی نیکی کا اور وحی کا یہی زعم تھا)۔فرماتے ہیں ”مگر عمر رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہو تا تھا انہوں نے اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھا اور امامت حقہ جو آسمان کے خدا نے زمین پر قائم کی تھی اس کا شریک بنا نہ چاہابلکہ ادنی چاکر اور غلام اپنے تئیں قرار دیا، اس لئے خدا کے فضل نے اُن کو نائب امامت حقہ بنا دیا۔( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 473-474) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر اپنے آپ کو حقیر سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے، فضل کرتے ہوئے پھر اُن کو خلیفہ بنادیا جو نبی کا نائب ہے۔پھر سر الخلافہ کے صفحہ 326 میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ : ”میرے رب نے مجھ پر ظاہر فرمایا ہے کہ ابو بکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان (رضوان اللہ علیھم اجمعین) غایت درجه ایماندار اور رُشد و ہدایت سے مامور تھے۔وہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت بخشی ہے اور جو خاص طور پر موردِ افضال الہیہ ہوئے ہیں۔عارفوں کی ایک بڑی جماعت اُن کی خصوصیات کی گواہ اور اُن کی خوبیوں کی معترف ہے۔انہوں نے محض رضائے الہی کی خاطر اپنے وطنوں کو چھوڑا اور ہر معرکے میں بلا دریغ داخل ہو گئے۔انہوں نے شدت گرمی کا خیال کیا نہ ہی سرد ترین راتوں کی پرواہ کی بلکہ مردِ میدان بن کر دین کی راہ میں قدم مارتے چلے گئے۔اس راہ میں نہ کسی قرابت دار کی پرواہ کی ، نہ کسی اور کی اور رب العالمین کی خاطر سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔اُن کے اعمال حسنہ سے بوئے خوش آتی اور افعالِ پسندیدہ سے خوشبو کی لپیٹیں آتی ہیں۔اُن سے اُن کے باغ درجات، اُن کے گلستانِ حسنات کی طرف رہنمائی ہوئی ہے۔اُن کی بادِ نسیم اپنے ہی عطر بیز جھونکوں سے اُن کے اسرار کی خبر دیتی ہے اور اُن کے انوار ہم پر ضوفگن ہوتے ہیں۔سوان کی خوشبو سے اُن کی نیک شہرت کی طرف رہنمائی ہو سکتی ہے“۔(اردو ترجمه از عربی عبارت، سر الخلافه ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 326 ) پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا: یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ ( یعنی حضرت عثمان ) اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھما اگر دین میں بچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے“۔(مکتوبات احمد جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 151 مکتوب نمبر 2 مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحب مطبوعہ ربوہ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت علی کے مقام و مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یہ بھی سر الخلافہ کا صفحہ 358 ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: