خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 318
318 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے۔اور پھر یہ باتیں زندگی کا مسلسل حصہ ہونی چاہئیں کہ نمازیں بھی ہوں، قرآنِ کریم کی تلاوت بھی ہو اور پھر نہ صرف اِن تین دنوں میں ، بلکہ گھروں میں جا کر بھی ان کو جاری رہنا چاہئے۔حضرت منشی محبوب عالم صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان گیا کیونکہ میں حضرت صاحب کو روزانہ خط لکھا کر تا تھا اس واسطے حضرت اقدس کو بھی میرے ساتھ بہت محبت ہو گئی۔جب کبھی میں لاہور سے جاتا فوراہی مجھے شرف ملاقات بخشتے۔کبھی مجھے اندر بلاتے ، کبھی خود باہر تشریف لاتے۔ایک دفعہ میں قادیان گیا تو حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آپ یہاں بیٹھ جائیں میں آپ کے لئے کچھ کھانا لاتا ہوں۔چنانچہ میں کھڑکی کے آگے بیٹھ گیا۔حضور اندر تشریف لے گئے کوئی پندرہ بیس منٹ کے بعد سوتوں کی ایک تھال اپنے دست مبارک میں اُٹھائی ہوئی میرے لئے لے آئے اور فرمانے لگے ، یہ ابھی آپ کے لئے اپنے گھر والوں سے پکوا کر لایا ہوں۔میں بہت شرمسار ہوا کہ حضور کو تکلیف ہوئی مگر دل میں میں خوش بھی ہوا کہ حضرت اقدس کے دست مبارک سے مجھے یہ پاکیزہ غذا میسر ہوئی ہے۔چنانچہ میں نے سوئیاں کھائیں اور بہت خدا کا شکر ادا کیا۔پھر حضور نے مجھے رات کو فرمایا آج آپ یہیں سوئیں، چنانچہ مسجد کے ساتھ کے کھڑ کی والے کمرہ میں اکیلا سویا مگر مجھے رات بھر نیند نہ آئی اور میں جاگتا ہی رہا۔اور دعائیں کرتا رہا اور دل میں خیال کرتا تھا کہ میرا یہاں سونا کسی غفلت کا موجب نہ ہو، تاکہ حضرت کو روحانی طور پر یہ معلوم نہ ہو جائے کہ میں سویار ہا ہوں۔اسی خوف سے میں جاگتا رہا اور درود شریف پڑھتارہا اور دعائیں کرتا رہا اور جب چار بجے تو حضور خود میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ جاگیں اب نماز کا وقت ہونے والا ہے۔میں تو پہلے ہی جاگتا تھا اُٹھ کھڑا ہوا اور مسجد مبارک میں آ گیا۔اتنے میں اذان ہوئی اور حضرت صاحب بھی اندر سے تشریف لائے۔(ماخوذ از روایات حضرت منشی محبوب عالم صاحب رجسٹر روایات جلد 9 صفحہ 220 تا 222 غیر مطبوعہ) حضرت میاں وزیر خان صاحب ولد میاں محمد صاحب افغان غوری لکھتے ہیں کہ ایک روز 1895ء یا 1896ء کی بات ہے، حضرت صاحب اور مولوی صاحبان یعنی مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب، مولوی محمد احسن صاحب اور چند دوست جن میں میں بھی تھا، گول کمرے میں کھانا کھا رہے تھے کہ کھانے کے وقت قیمہ بھرے ہوئے کریلے آئے۔حضرت صاحب نے ایک ایک کر کے تقسیم کر دیئے۔دورہ گئے اور مجھے کوئی نہیں دیا۔میرے دل میں خیال آیا کہ مجھے تو نہیں دیا۔بڑے بڑے مولویوں کو دے دیا ہے، مجھے نہیں دیا۔حضرت صاحب نے معا دونوں کریلے اُٹھا کر میرے آگے رکھ دیئے۔میں نے عرض کی حضور بھی لے لیں۔آپ نے فرمایا نہیں، آپ کھائیں۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں وزیر خان صاحب رجسٹر روایات جلد 14 صفحہ 363 364 غیر مطبوعہ) تو فوراً ایسی صور تحال بعض دفعہ ہوتی تھی کہ خیال آیا اور ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کے خیال کے مطابق، خواہش کے مطابق یا جو بھی اگر کوئی بدظنی پیدا ہوئی ہو تو اس کو دور کرنے کے لئے فوراًوہ عمل کر دیا۔