خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 317

خطبات مسرور جلد نهم 317 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء فرما رہے ہیں سب سچ ہے۔دو چار دن بعد میں اُسے ملا اور دریافت کیا کہ بتاؤ اب کیا رائے ہے ؟ کہنے لگا معلوم نہیں، اُس وقت تو مجھے حضور کی ہر بات درست معلوم ہوتی تھی اور اب نہیں۔(ماخوذاز روایات حضرت چراغ محمد صاحب رجسٹر روایات جلد 5 صفحہ 15 غیر مطبوعہ) جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دینا چاہے اُن کے دل پھر اس طرح سخت ہو جاتے ہیں۔حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بقا پوری جب قادیان آئے تو انہوں نے دیکھا کہ قادیان والوں کو کس طرح آزمایا جائے۔اب آزمانے کا انہوں نے طریقہ جو نکالا، کہتے ہیں مجھے خیال ہوا کہ علماء میں سے ایک بڑے عالم کو دیکھا اور خود مدعی مسیح اور مہدویت کی بھی زیارت کی۔اُن کو تو دیکھا، بڑے عالم کو بھی دیکھا، اُن کو علم سے بھرا ہوا پایا، اخلاق میں اعلیٰ پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا، اور اُن کی تو خیر کوئی مثال تھی ہی نہیں، اخلاق کا ایک سمندر تھے۔تو اب یہاں کے عام لوگوں کی بھی اخلاقی حالت دیکھنی چاہئے۔چنانچہ اس امتحان کے لئے کہتے ہیں میں لنگر خانے چلا گیا جو اُس وقت حضرت خلیفہ اول کے مکان کے جنوبی طرف اور بڑے کنوئیں کی مشرق کی طرف تھا۔لنگر خانے میں ایک چھوٹا سا دیگچھ تھا جس میں دال اور ایک چھوٹی سی دیچی میں شوربہ تھا۔میاں نجم الدین صاحب بھیروی مرحوم اُس کے منتظم تھے۔میں نے میاں نجم الدین صاحب سے کھانا مانگا تو انہوں نے مجھے ایک روٹی اور دال دی۔میں نے کہا میں دال نہیں لیتا، گوشت دو۔میاں نجم الدین صاحب مرحوم نے دال الٹ کر گوشت دے دیا۔( دال واپس ڈال دی، گوشت ڈال دیا بغیر کچھ کہے )۔لیکن میں نے پھر کہا کہ نہیں نہیں دال ہی رہنے دو۔تب انہوں نے گوشت اُلٹ کر دال ڈال دی۔( پھر واپس کیا گوشت، پھر دال ڈال دی)۔اور گوشت اور دال کے اس ہیر پھیر سے میری غرض یہ تھی کہ تا میں کارکنوں کے اخلاق دیکھوں۔مطلب یہ نہیں تھا کہ مجھے دال پسند ہے یا گوشت پسند ہے۔اتنی دفعہ دال اور گوشت کو بدلوایا کہ دیکھنا یہ چاہتے تھے کہ ان کے اخلاق اچھے ہیں کہ نہیں۔یہ کہیں غصے میں آکر یہی دال کی پلیٹ تو نہیں میرے اوپر پھینک دیں گے۔تو میں نے کی اوپر بیٹھ کر کھانا کھایا اور وہاں کے مختلف لوگوں سے باتیں کیں۔منتظمین لنگر کی ہر ایک بات خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے والی تھی، یہ فقرہ دیکھیں کہ منتظمین لنگر کی ( جو بھی کارکنان تھے وہاں اُن کی) ہر ایک بات خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے والی تھی۔اس سے بھی میرے دل میں گہرا اثر ہوا۔اب یہ تھی نیکی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے صحابہ میں اپنے ساتھ رہنے والوں میں پیدا کی۔دوسرے دن صبح قریباً تمام کمروں سے قرآنِ شریف پڑھنے کی آواز آتی تھی۔فجر کی نماز میں میں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور یہ نظارہ بھی میرے لئے بڑا دلکش اور جاذب نظر تھا۔(ماخوذ از روایات حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری رجسٹر روایات جلد 8 صفحہ 11،10 غیر مطبوعہ) پس یہ نظارے ہیں جو ان دنوں میں بھی، جلسے کے دنوں میں خاص طور پر ہم میں نظر آنے چاہئیں، اور کارکنان کو بھی خاص طور پر نوٹ کرنا چاہئے کہ اُن کی ہر بات ، اُن کا ہر عمل ایسا ہو جس سے ظاہر ہو تا ہو کہ حقیقت