خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 669
خطبات مسرور جلد ہشتم 669 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 ہے پھر دعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ سے متواتر دعائیں مانگتا ہے تو وہ اور ہی انسان ہو جاتا ہے۔اس کی روحانی کدورتیں دور ہو کر اس کو ایک قسم کی راحت اور سرور ملتا ہے۔اور ہر قسم کے تعصب اور ریا کاری سے الگ ہو کر وہ تمام مشکلات کو جو اس کی راہ میں پیدا ہوں برداشت کر لیتا ہے۔خدا کے لئے ان سختیوں کو جو دوسرے برداشت نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے برداشت کرتا ہے تب خدا تعالیٰ جو رحمان رحیم خدا ہے اور سراسر رحمت ہے اُس پر نظر کرتا ہے اور اس کی ساری کلفتوں اور کدورتوں کو سرور میں بدل دیتا ہے“۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 492 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی دعائیں کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو قبولیت بھی عطا فرمائے۔ہماری کلفتوں کو دور فرمائے اور جلد اس کو سرور میں بدل دے۔ہمارا شمار ہمیشہ ان بندوں میں رکھے جن پر ہر وقت اس کے پیار کی نظر پڑتی رہتی ہے۔آج بھی ایک افسوس ناک خبر ہے۔مردان میں ہمارے ایک نوجوان مکرم شیخ عمر جاوید صاحب کو کل شہید کر دیا گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔شہید مرحوم اپنے والد مکرم شیخ جاوید احمد صاحب اور اپنے چازاد بھائی شیخ یاسر محمود صاحب ابن مکرم شیخ محمود احمد صاحب شہید کے ہمراہ کار میں اپنی دکان سے شام کو پونے سات بجے کے قریب گھر واپس آ رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے تعاقب کر کے فائرنگ کر دی۔شہید مرحوم عمر جاوید صاحب پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔اُن کے سر اور کمر میں گولیاں لگی ہیں جس سے ان کی موقع پر شہادت ہو گئی۔جبکہ اگلی سیٹ پر موجود شہید مرحوم کے والد اور شیخ جاوید احمد صاحب کے بازو پر گولی لگی جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ڈرائیو کرنے والے شیخ یاسر محمود کو شیشے کے ٹکڑے ہاتھ پر لگنے سے زخم آئے۔دونوں زخمی جو تھے ان کو تو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔اللہ کے فضل سے ٹھیک ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو پیچیدگیوں سے بھی بچائے اور جلد شفائے کاملہ عطا فرمائے۔گاڑی پر کل تقریباً کوئی سترہ اٹھارہ گولیاں لگی ہوئی تھیں جو نشانات ملے ہیں۔بہر حال ملزمان جو تھے ، جو مجرم تھے وہ تو اس کے بعد فرار ہو گئے لیکن وہاں سرحد میں ابھی تک یہ شرافت ہے کہ وزیر اعلیٰ کے والد صاحب محمد اعظم خان ہوتی زخمیوں کی عیادت کے لئے بھی آئے اور پھر ان کے ہسپتال کے سٹاف کو ہدایات بھی دیں کہ ان کا صحیح علاج کیا جائے۔اور شہید مرحوم کے گھر تعزیت کرنے بھی گئے۔یہ خاندان جو ہے اس کے شیخ نیاز دین صاحب نے 1907ء میں بیعت کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔شیخ شہید مرحوم کے دادا شیخ نذیر احمد صاحب تھے جنہوں نے بعد میں 1932ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے زمانے میں بیعت کی ہے۔اور ان کے بارہ میں پہلے بھی میں بتا چکا ہوں کہ شہید مرحوم کے چا اور سر شیخ محمود احمد صاحب سات بھائی تھے۔اس خاندان میں پہلے بھی شہید ہو چکے ہیں۔مردان کی مسجد پر