خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 670 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 670

خطبات مسرور جلد ہشتم 670 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 جو خود کش حملہ ہوا تھا، اُس میں شہید مرحوم کے چا زاد بھائی شیخ عامر رضا ابن مکرم شیخ مشتاق احمد صاحب شہید ہوئے تھے۔اور بعد میں ان کے چاشیخ محمود احمد صاحب کو 8 نومبر 2010ء کو معاندین نے شہید کیا تھا۔اس وقت جو فائرنگ ہوئی تھی اس میں ان کا ایک بیٹا زخمی ہوا تھا۔1974ء میں بھی ان کے خاندان کا ایک فرد جن کا رشتہ سسرالی رشتہ تھا وہ شہید کئے گئے تھے تو اس خاندان میں 1974ء سے شہادتوں کا سلسلہ چل رہا ہے لیکن پھر بھی یہ تمام مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں اور پورا خاندان بڑی بہادری کے ساتھ یہ مقابلہ کر رہا ہے۔چھلی شہادت پہ میر اخیال ہے کہ میری ان سے بھی بات ہوئی تھی کیونکہ سارے افراد سے ہوئی تھی تو ان سے بھی ہوئی ہو گی اور بڑے ہمت اور حوصلے سے تمام اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔مرحوم کے چا اور سر مکرم شیخ محمود احمد صاحب شہید اور ان کے سب بھائی مختلف اوقات میں ہیں سے زائد مختلف جماعتی مقدمات کے حوالے سے اسیر راہ مولیٰ بھی رہ چکے ہیں۔شہید مرحوم کے دو چچاؤں کو ایک جماعتی مقدمے میں عدالت نے پانچ سال قید کی سزاسنائی تھی جبکہ اس جرم کی سزا ہی زیادہ سے زیادہ تین سال ہے۔بہر حال ہائی کورٹ نے بعد میں ان کو بری کر دیا تھا۔اسی طرح میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ان کے خاندان میں اغوا بھی ہوتے رہے ہیں۔ان کی دکان پہ جو کاروبار ہے وہاں ایک بم بلاسٹ بھی ہو اتھا۔اپنے چچا کے ساتھ ہی کاروبار میں شریک تھے۔ناظم خدمتِ خلق ضلع مردان تھے۔محاسب تھے۔بہر حال احتیاط تو یہ عموما کیا کرتے تھے۔میں نے ان کو کہا بھی تھا کہ سر شام ہی اپنا کاروبار بند کر کے آجایا کریں لیکن بہر حال اس دن یہ آرہے تھے ، اپنے گھر کے قریب پہنچے اور گھر سے قریباً تین چار سو گز کے فاصلے پر تھے تو ان پر فائرنگ کی گئی اور یہ شہید ہو گئے۔سال، دو سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی۔ان کی اہلیہ ہیں ان کے ہاں بچے کی پیدائش بھی ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کو بھی صحت سے رکھے اور ہر قسم کی پیچیدگیوں سے بچائے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر اور حوصلہ و ہمت عطا فرمائے۔ابھی نماز کے بعد انشاء اللہ ان کا نماز جنازہ غائب ادا کروں گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد 18 شماره 102 مورخہ 14 جنوری تا 20 جنوری 2011 صفحہ 5 تا 8)