خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 663 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 663

خطبات مسرور جلد ہشتم 663 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 گمراہوں کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا۔پس یہ مایوسی غیروں کا کام ہے۔ہم تو گمراہوں میں شامل نہیں۔ہم تو مہدی آخر الزمان کے ماننے والے ہیں۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے اس مسیح و مہدی کے ذریعے سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالا ہے۔ہمیں تو گمراہی میں بھٹکنے کے بجائے صراط مستقیم پر چلنا سکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً احمدی اس حقیقت کو جانتے ہیں تبھی تو ایمان کی مضبوطی کے ساتھ تکالیف بھی برداشت کر لیتے ہیں۔تبھی تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ان تکالیف کو جو انہیں مخالفین احمدیت پہنچاتے ہیں اُن کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔تبھی تو اپنے شہداء کو بغیر جزع فزع کے باوقار طریقے سے دفنانے کے بعد ، اُن کی تدفین کرنے کے بعد، دعائیں کرتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔اور پھر اپنے آنسو صرف اور صرف خدا کے آگے بہاتے ہیں۔لیکن بعض انکاؤ تھا، کوئی کوئی، پریشان بھی ہو جاتے ہیں جو اچھا بھلا دین کا علم رکھنے والے بھی ہیں اور بعض جماعت کے کام کرنے والے بھی ہیں۔کہہ دیتے ہیں اور بعض مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ یہ سختیوں کے دن لمبے ہوتے جارہے ہیں۔کل یا پرسوں کی باتیں ہوتی تھیں ، یہ کل یا پرسوں تو ختم ہی نہیں ہو رہی۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ قوموں کی زندگی میں دنوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔قوموں کی عمر میں چند سال کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ترقی کرنے والی قومیں صرف ایک محاذ کو نہیں دیکھتیں، ایک ہی طرف اُن کی نظر نہیں ہوتی ، اُن کی نظر قوم کی مجموعی ترقی پر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کے سخت حالات کے بعد جماعت کی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ چکی ہے بلکہ پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی پہلے سے بڑھ کر ہے۔ہاں بعض سختیاں بھی ہیں۔بعض پابندیاں ہیں۔جانی اور مالی نقصانات ہیں۔خلیفہ وقت کو جماعت سے بر اور است اور جماعت کو خلیفہ وقت سے بغیر کسی واسطے کے ملنے کی تڑپ بھی دونوں طرف سے ہے۔وہ بیشک اپنی جگہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے اس کے لئے بھی نصف ملاقات کا ایک راستہ بھی ہمارے لئے کھول دیا ہے جو ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے انتظام فرمایا ہے۔اگر پاکستان میں جلسے اور اجتماعات پر پابندیاں ہیں تو ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے ہی کئی جلسوں اور اجتماعات میں دنیا کا ہر احمدی بشمول پاکستانی احمدی شریک ہوتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے باوجود پابندیوں کے روحانی مائدہ کو بند نہیں ہونے دیا۔پس جب اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات ہیں تو کبھی بھی کسی وقت بھی کسی کے دل میں بھی مایوسی کے خیالات نہیں آنے چاہئیں۔بلکہ ان دنوں میں اہل ربوہ کو بھی اور اہل پاکستان کو بھی اپنی بے چینیوں کو خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے دعاؤں میں بدل لینا چاہئے، دعاؤں میں ڈھال لینا چاہئے۔میں اپنے تصور میں ربوہ کے جلسہ کے پر رونق ماحول اور پاک ماحول کو لا کر غور کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی تقدیر کو جو احمدیت کی فتح کی تقدیر ہے اُس پر غور کرتا ہوں اور یہی ہر احمدی کا کام ہے۔وہ تقدیر جو آنحضرت صلی علیہ ہم کو آنحضرت صلی علیم کے دین کو دنیا پر غالب کرنے کی تقدیر ہے۔جو دنیا کی اکثریت کو مسیح محمدی کی جماعت میں شامل کرنے کی تقدیر ہے۔جو دوسری قوموں کی طرح