خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 664 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 664

664 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم پاکستانیوں پر بھی مسیح موعود کی صداقت خارق عادت طور پر ظاہر ہونے کی تقدیر ہے۔پس ہمیں اپنی دعاؤں میں ایک خاص رنگ پیدا کرتے ہوئے اس الہی تقدیر کو اپنی زندگی میں دیکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے عاجزی کی انتہا کرتے ہوئے مانگتے چلے جانا چاہئے۔ربوہ کی رونق اور پاک ماحول سے میرے تصور میں ربوہ کی سڑکوں پر جلسہ گاہ جاتے اور آتے ہوئے لوگوں کا رش بھی آتا ہے۔لیکن مجال نہیں کہ اُس رش میں کہیں دھکم پیل ہو رہی ہو۔مردوں، عورتوں کو خود بھی احساس ہو تا تھا۔اور اگر کہیں ذراسی کوئی بات ہو بھی گئی تو اطفال اور خدام جو ڈیوٹی پر ہوتے تھے، جو راستے کی ڈیوٹی پر رہنمائی کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے وہ ان کو توجہ دلا دیتے تھے اور توجہ دلانے پر فوراً اپنے اپنے راستے پر ہر کوئی چلتا تھا۔لوگوں کا ایک مسلسل دھارا چل رہا ہو تا تھا۔جس طرح پانی کا ایک بہاؤ ہوتا ہے ، پانی کی ایک ندی بہہ رہی ہوتی ہے اس طرح لوگ جلسہ گاہ کی طرف جارہے ہوتے تھے اور اسی طرح جلسہ ختم ہونے پر واپس آرہے ہوتے تھے۔سڑک کے ایک طرف مرد ہوتے تھے تو دوسری طرف عورتیں ہوتی تھیں۔ہر مرد کو عورت کے تقدس کا خیال ہو تا تھا اور ہر عورت کو اپنی حیا کا پاس ہو تا تھا۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا راستہ کاٹ رہے ہوں یا کوئی ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے۔پردے کی پابندی اور غض بصر ہر طرف نظر آتا تھا۔یہ نظارہ انسان کو مدینہ کی گلیوں میں بھی لے جاتا ہے جب آنحضرت صلی ہم نے فرمایا کہ عور تیں اور مرد علیحدہ علیحدہ راستے اختیار کریں۔عورتیں ایک طرف دیوار کے ساتھ ہو کر چلا کریں۔تو اس کی اس قدر پابندی ہوتی تھی کہ روایت میں آتا ہے کہ بعض عورتیں اس قدر دیواروں کے قریب ہو کر چلتی تھیں کہ اُن کی چادریں بعض دفعہ دیواروں کے پتھروں میں الجھ کر اٹک جایا کرتی تھیں۔(سنن ابی داؤد ابواب النوم باب فی مشى النساء مع الرجال فی الطریق حدیث نمبر 5272) تو یہ سب اس لئے تھا کہ اطاعت کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھائیں اور اپنی حیا اور تقدس کو قائم رکھیں۔تو یہ نظارے جیسا کہ میں نے کہا ہمیں ربوہ میں بھی جلسہ کے دنوں میں دیکھنے میں آتے تھے۔اسلامی روایات کا نمونہ ربوہ میں آنے والے عموماً اور عام دنوں میں بھی اور جلسے کے دنوں میں خصوصاً دیکھتے تھے۔قادیان میں بھی چھوٹی سڑکیں اور گلیاں ہیں۔اس حوالے سے میں قادیان میں جلسے میں شامل ہونے والے لوگوں سے بھی کہتا ہوں کہ کیونکہ بہت سے پہلی دفعہ شامل ہو رہے ہوں گے۔مختلف ممالک اور ماحول سے آئے ہوئے ہیں، بعض دفعہ اتنا خیال نہیں رہتا کہ اپنے اپنے راستے پر چلیں۔بجائے اس کے کہ آپ کو ڈیوٹی والے کارکنان توجہ دلائیں، عورتیں اور مرد اپنے اپنے علیحدہ راستوں پر چلیں۔قادیان کے بارے میں تو غیروں نے بھی آج سے اسی نوے یا سو سال پہلے یہ لکھا ہوا ہے کہ وہاں اسلامی تعلیم کا یا اسلامی قدروں کا یا اسلام کا ٹھیٹھ نمونہ نظر آتا ہے۔تو یہ ٹھیٹھ نمونہ قادیان میں آج بھی قائم رہنا چاہئے جبکہ دور دور سے غیر بھی جلسے پر آئے ہوں گے۔