خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 560
خطبات مسرور جلد ہشتم 560 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 میں تبدیلی پیدا کریں۔اپنی عبادتوں کو ایسا بنائیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہماری عبادتوں میں نظر آنے لگے ، ہمارے عملوں میں بھی نظر آنے لگے۔دنیا کو بتائیں کہ قیام توحید کے لئے آنحضرت صلی علیکم مبعوث ہوئے تھے۔آپ کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی اب یہ قیام توحید ہو سکتا ہے۔اور مسلمانوں کی بھی کیونکہ حالت بگڑ گئی ہے اس لئے اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آنحضرت صلی علیہ یکم کے عاشق صادق اور غلام صادق ہیں، کی جماعت میں ہی شامل ہو کر توحید کے قیام کا حقیقی رنگ میں حق ادا ہو سکتا ہے۔پس جب یہ احمدی کی ذمہ داری ہے اور شرائط بیعت کی پہلی شرط بھی یہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپنے آقا کی غلامی کا حق ادا کرتے ہوئے توحید کے قیام کی کوشش کریں تو پھر ہمیں کس قدر احتیاط سے ہر قسم کے بار یک شرک سے بھی بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں نصیحت کرتے ہوئے رسالہ الوصیت میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں۔کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کیلئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 307-306) دینے سے“۔پس یہ ایک احمدی کے فرائض میں داخل ہے کہ خدا تعالیٰ کے اس منشاء کو سمجھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سمجھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کو سمجھنے والے ہوں۔زمانے کے امام کا معین و مددگار بنیں۔اپنے ہر قول و فعل سے توحید کے قیام کی کوشش کریں۔صرف مسلمانوں کو نہیں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی توحید کے پیغام کے ذریعہ دین واحد پر جمع کرنے کی کوشش کریں۔اس کے لئے جو طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ تمہاری باتوں میں نرمی بھی ہو اور اخلاق کا عمدہ مظاہرہ بھی ہو۔خود لوگ تمہارے اخلاق دیکھیں اور توجہ کریں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دعاؤں پر زور دو۔بدعات اصل تعلیم سے دور لے جاتی ہیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ بعض بدعات جب رائج ہو جائیں تو اصل تعلیم سے دور لے جاتی ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اصل تعلیم انسان بھول جاتا ہے اور یہ بدعات پھر بعض دفعہ ، بعض دفعہ کیا اکثر دین کو بگاڑتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑا کر دیتی ہیں۔تمام سابقہ دین اپنی اصلی حالت کو اس لئے کھو بیٹھے کہ ان میں نئی نئی