خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 561
خطبات مسرور جلد ہشتم 561 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 بدعات زمانے کے ساتھ ساتھ راہ پائی گئیں اور پھر ان کو دور کرنے کے لئے کوئی نہ آیا اور آنا بھی نہیں تھا۔کیونکہ اسلام نے ہی تا قیامت اپنی اصل حالت میں قائم رہنا تھا۔اور جس نے آنا تھا وہ آخری نبی صلی الم تھے جنہوں نے تمام قسم کی بدعات کو اور دین میں جو غلط رسم و رواج راہ پاگئے تھے ان کو حقیقی تعلیم کے ذریعہ سے دور فرمانا تھا۔گو جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ بدعات بھی بعض مسلمانوں میں غلط طور پر راہ پاگئی ہیں اور بعض بدعات ایسی ہیں اور غلط طرزِ عمل ایسے ہیں جن کی وجہ سے شرک بھی داخل ہو گیا ہے۔نہ صرف مخفی شرک بلکہ ظاہری شرک بھی بعض جگہ ہمیں نظر آتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اس زمانہ کے امام کو بھیج کر اس شرک اور بدعت سے اسلام کو محفوظ کرنے کے سامان بہم پہنچا دیئے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ محفوظ رہے گا۔یہی بدعات جو اسلام میں راہ پاگئی ہیں، مسلمانوں میں راہ پاگئی ہیں اور جو غلط طریقے جو ہیں ان کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہمارا طریق بعینہ وہی ہے جو آنحضرت صلی یکم اور صحابہ کرام کا تھا۔آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔یہ چلے اور وِرد وظائف جو انہوں نے رائج کر لئے ہیں ہمیں نا پسند ہیں۔اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تدبر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت الی اللہ سے کرتے رہنا۔بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔یہ ہے تو سب کچھ ہے“۔( یعنی نماز ہے تو سب کچھ ہے )۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 432) پس عام بدعات تو ایک طرف ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو بعض وظائف وغیرہ کرنے اور ان وظائف پر زور دینے والوں کے عمل کو بھی بدعات کرنے والا قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے اصل چیز جو ہے وہ بھول جاتے ہیں۔نماز جو اصل عبادت ہے وہ بھول جاتی ہے۔وہ نماز بھول جاتے ہیں اور ورد و وظائف پر زور شروع ہو جاتا ہے۔اور پھر یہ بھی شیطانی عملوں میں سے ایک عمل بن جاتا ہے۔ایک بزرگ کا قصہ آتا ہے کہ ان کی ہمشیرہ جو بہت نیک تھیں، نمازیں پڑھنے والی، تہجد گزار، دوسرے نوافل پر زور دینے والی۔انہوں نے بعض مجلسوں میں جا کر یا لوگوں سے متاثر ہو کر ور د اور ذکر اور وظائف کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کر دی۔اس طرف زیادہ مائل ہو گئیں۔اور پھر آہستہ آہستہ جو دن کے نوافل تھے وہ چھوڑ دیئے۔ان بزرگ کو شک پڑا تو انہوں نے پوچھا۔انہوں نے کہا کہ جی میں زیادہ اب ورد اور وظائف کر لیتی ہوں۔انہوں نے سمجھایا کہ یہ غلط طریق ہے۔لیکن بہر حال نہیں سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ میں ٹھیک کرتی ہوں۔آہستہ آہستہ تہجد کی نماز پڑھنی بھی چھوڑ دی۔اس کی جگہ بھی ذکر شروع ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ دیکھو جو ذ کر تم کر رہی ہو تمہیں شیطان اور غلا رہا ہے۔اس لئے بچو۔یہ کوئی خدا کا حکم نہیں ہے۔اگر تم نے اس سے بچنا ہے تو تم لا حول پڑھا کرو، بچ جاؤ گی۔کچھ عرصے بعد اس بزرگ خاتون نے دیکھا کہ فرض نمازوں کی طرف بھی میری بے رغبتی ہو رہی