خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 559
خطبات مسرور جلد ہشتم 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 ہیں کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے پیارے تھے ، اس کے بارہ میں بھی قرآن شریف میں آیا ہوا ہے، ان لوگوں کو تم استعمال کرتے ہو۔بعض جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے بھی یہی بہانے ہوتے ہیں کہ یہ ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے ہم اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں۔یہ بالکل غلط نظریات ہیں۔یہ دعا اگر وہ پیروں فقیروں کی قبروں پر جا کرتے ہیں، اگر وہ شرک سے پاک ہیں، اگر وہ حقیقت میں نیک تھے تو ان پیروں فقیروں کی زندگی پر غور کرتے ہوئے دعا کرنے والے کو یہ دعائیں خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنانے والی ہونی چاہئیں۔نہ یہ کہ وہ انہیں خدا تعالیٰ کے مقابل پر کھڑا کر کے یہ کہنے لگ جائیں کہ اس فقیر نے ہمیں اولاد دی تھی۔اور اس وجہ سے پھر غیر مسلموں کو بھی اسلام پر اعتراض کرنے کا موقع ملے ، آنحضرت علی علیم کی ذات پر اعتراض کرنے کا موقع ملے۔آنحضرت صلی علیم کو صحابہ کی تربیت کا اس قدر خیال تھا ، قیام توحید کا اس قدر خیال فرماتے تھے کہ آپ نے فرمایا کہ معمولی ریاء بھی شرک ہے۔عبادت میں بھی اگر تم ریاء کرتے ہو ، نمازیں پڑھتے ہوئے بھی ریاء کرتے ہو تو یہ بھی شرک ہے۔آپ نے فرمایا کہ شرک سے بچو۔شرک تم میں چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ مخفی ہے۔یعنی چیونٹی کے پاؤں سے زمین پر جو نشان پڑ جاتے ہیں ، اس سے بھی زیادہ باریک ہے۔صحابہ نے اس پر عرض کیا کہ کس طرح بچیں؟ آپ صلی علیہم نے یہ دعا پڑھ کر کہا کہ یہ دعا پڑھا کرو کہ اللهُمَّ إِنَّا نَعُوْذِبَكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لاَ نَعْلَمُ کہ اے اللہ ! ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم تیرے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے شریک ٹھہرائیں۔اور لاعلمی میں ایسا کرنے سے ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں۔(مسند احمد بن حنبل، مسند ابو موسیٰ الاشعری جلد 6 صفحہ 615-614۔حدیث نمبر 19835۔) پس آپ نے تو ایک مسلمان کو شرک سے بچنے کی ہمیشہ تلقین فرمائی ہے اور اس کے لئے یہی کہا اور ہمیشہ کہا کہ میں تو انسان ہوں۔ایک عاجز انسان ہوں۔کوئی آپ سے خوفزدہ ہو رہا ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ میں تو ایک ابن ماجہ کتاب الا طعمہ باب القديد حدیث : 3312) معمولی عورت کا بیٹا ہوں۔خدا تعالیٰ نے بھی آپ سے یہی اعلان کروایا کہ اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الکہف:111) کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔اس لئے یہ بات تو بہر حال اس ہندو نے غلط لکھی کہ تم نے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ تم کو خدا بنا لیا۔اگر ہم نے اپنے دیوی دیوتاؤں کو خدا بنایا ہوا ہے۔یا کرشن وغیرہ کو انہوں نے خدا کا بڑا مقام دیا ہے تو کیا ہوا۔لیکن یہ بات اس کی صحیح ہے کہ قبروں کو تم نے خدا کا مقام دے دیا ہے۔پس مسلمانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ توحید کے علمبر داروں پر شرک کا الزام لگ رہا ہے۔اس الزام کو عام مسلمان تو دور نہیں کر سکتے لیکن ایک احمدی مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ اپنی حالتوں میں اور اپنے عملوں