خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد ہشتم 521 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 کو بے سہارا نہیں چھوڑتی بلکہ خدا تعالیٰ احمدی کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ان کا انتظام تو ہو گیا لیکن ان لوگوں کی بد فطرتی کا پتہ چل گیا جو اپنے آپ کو اسلام کا نمائندہ کہتے ہیں کہ خدا اور نبی صلی الم کے نام پر ان لوگوں نے کس بد فطرتی کا ثبوت دیا ہے اور دیتے ہیں۔یہ طوفان اور سیلاب لاہور میں ہماری مساجد کے واقعہ کے بعد آئے جہاں ظلم و بربریت کی ہولی کھیلی گئی۔اس تناظر میں اگر دیکھیں تو جماعت احمدیہ کا بلند کردار مزید نکھر کر سامنے آتا ہے کہ باوجود یہ سب ظلم سہنے کے جماعت اپنے ہم وطنوں کو پریشان دیکھ کر فوراً مدد کے لئے آگے آئی۔جماعت کے افراد کی قربانی کی قدر اور بھی بڑھتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مسجدوں میں ہمارے شہید ہونے والوں کے گھروں میں اس وقت جب ابھی ان کے گھروں سے جنازے بھی نہیں اٹھے تھے محلے والوں کی طرف سے بعض جگہ مٹھائی پہنچی کہ لو اپنے شہیدوں کی خوشی میں مٹھائی کھاؤ۔اس سے بڑا مذ ہبی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا اور کیا اظہار ہو سکتا ہے یا ہو گا جو قوم کے بعض لوگوں کا مولوی نے کر دیا ہے۔بالکل دیوالیہ کر دیا ہے۔اور پھر محلے کے بچے بعض جگہ احمدی بچوں کو کہتے ہیں کہ انہیں گڑوں میں پھینکنا ہے کیونکہ یہی ان کا مقام ہے ، یہی ان کی جگہ ہے۔جس کی وجہ سے بعض گھرانوں کو اپنے گھر بھی تبدیل کرنے پڑے۔لیکن احمدی کا بلند کردار پہلے سے بھی بڑھ کر ان حالات میں اپنی شان اور چمک دکھاتا ہے۔جب خوراک اور مختلف اشیاء بلکہ دوائیوں اور تعمیراتی کاموں کے لئے جماعت خدمات پیش کرتی ہے تو بغیر یہ دیکھے کہ کون کس وقت کس قسم کی دشمنی کرتا رہا ہے، بلا تخصیص ہر ایک کی مدد کے لئے گئی ہے اور مدد پہنچائی ہے۔پس یہ ہے وہ حقیقی اسلام کی تصویر جو آج جماعت احمدیہ پیش کر رہی ہے۔یہ اسوہ رسول پر چلنے کا اظہار ہے۔پس جماعت احمد یہ تو گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو“ کے حکم پر عمل کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ کرتی چلی جائے گی۔یہ مخالفانہ حالات صرف پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جب احمدیوں پر ظلم ہوتا ہے تو جماعت وہاں بھی جب وقت پڑے تو اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتی ہے۔گزشتہ دنوں انڈو نیشیا میں پھر ایک جگہ جماعت کی مسجد کو اور احمدیوں کے پانچ چھ گھر وں اور کاروں وغیرہ کو، ایک دو کاریں تھیں یا موٹر سائیکل تھے ، ان کو آگ لگائی گئی۔لیکن جماعت نے وہاں بھی جب طوفان کی صورت میں ان کو ضرورت پڑی، ان کی مدد کی۔انڈو نیشیا میں کم از کم بہت سارے غیر از جماعت پڑھے لکھے لوگوں میں یہ شرافت ہے اور جرآت بھی ہے کہ مسجدوں اور گھروں کو جلانے والوں کی کافی سیاستدانوں نے اور بڑے لیڈروں نے مذمت کی ہے بلکہ عبد الواحد جو سابق صدر مملکت تھے ، ان کی بیگم افسوس کے لئے جماعت کے گھروں میں بھی گئی۔ان لوگوں کے پاس گئی جن کا نقصان ہوا تھا۔کاش کہ ہمارے پاکستانی لیڈروں کی آنکھیں بھی کھلیں اور سیاسی قدروں اور اخلاق کو وہ جاننے والے بنیں۔بہر حال احمدی تو ہر حال میں دنیا کو ہلاکت سے بچانے کے لئے کوشش کرتا ہے