خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 522 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 522

خطبات مسرور جلد ہشتم 522 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 اور اس نے کوشش کرنی ہے۔زمانہ کے امام کا پیغام پہنچا کر بھی اور دعاؤں میں خاص توجہ دے کر بھی ہم نے اپنی کوشش کو جاری رکھنا ہے۔اور ہمارے ان اخلاق کو کوئی ظالم اور کسی بھی قسم کا ظلم ہم سے چھین نہیں سکتا۔ہماری دعائیں انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن رنگ لائیں گی جب ظالم اور ظلم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ہمیں ہمیشہ یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر شخص کو اور ہر ملک کو ظالم اور ظلم سے پاک کر دے۔ہمارا یہ کام نہیں کہ دنیا میں فتنہ و فساد پیدا کر کے اپنے حقوق کے لئے جنگ لڑیں۔ہمارے پر ظلم دین کی وجہ سے ہو رہے ہیں اس کے علاوہ تو اور کوئی وجہ نہیں۔اور دین کی خاطر لڑائیوں سے ہمیں اب زمانے کے امام نے روک دیا ہے۔دعا ایک ہتھیار ہے اور بہت بڑا ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح انشاء اللہ تعالیٰ ہونی ہے اور ہو گی۔ہمارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔جس کے لئے نیکیاں تو بجالائی جاتی ہیں لیکن فتنہ و فساد اور غلو سے کام نہیں لیا جاتا۔اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا (القصص: 84) یعنی یہ آخرت کا گھر ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو نہ تو زمین میں اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی فساد کرتے ہیں۔پس جب ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے آخرت پر یقین رکھنے والوں میں شامل کیا ہے تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی بھی قسم کے علو اور فساد سے ہم کام لیں، قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیں۔انسانیت کی خدمت سے انکار کر دیں۔دوسروں کو ذلیل کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ یہ تقویٰ کے خلاف ہے اور تقویٰ ہی ایک مومن کا مقصود ہے اور ہونا چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص:84) یعنی آخری انجام متقیوں کا ہی ہے۔فساد کرنے والوں کا نہیں۔ہر مذہب کے ماننے والے مخالفین کے حملوں اور زیادتیوں اور ظلموں کی وجہ سے یہی سمجھتے رہے۔بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ سمجھنے لگے کہ ہم اب ختم ہوئے کہ اب ختم ہوئے۔اور بعض دفعہ جب امتحان اور ابتلا لمبا ہو جائے تو بعض سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں بھی دنیا داری کے داؤ پیچ استعمال کرنے چاہئیں لیکن البہی جماعتیں ایسا نہیں کرتیں۔بعض لوگ مجھے خط بھی لکھ دیتے ہیں کہ اب اتنا صبر اچھا نہیں ہے ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے جیسے کہہ دیا کہ جنگ اور فساد ہمارا مقصد ہی نہیں ہے۔ہم نے اس زمانے کے امام کو مان لیا۔جب مان لیا تو وہ جو کہتا ہے اس پر حرف بحرف چلنا ہے۔اور پھر یہ کہ نیک فطرتوں کو اس قسم کے فتنہ و فساد کے داؤ پیچ آہی نہیں سکتے۔کیونکہ اگر ہم کوشش بھی کر لیں تو ہم نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہماری فطرت کے خلاف ہے۔ہمارے ربوہ کے ارد گرد جو علاقہ ہے جس میں وہاں کے مقامی باشندے آباد ہیں۔ربوہ چونکہ partition کے بعد آباد ہوا تو وہاں آنے والوں کو ربوہ کے شہریوں کو ارد گرد کے مقامی لوگ مہاجر کہتے ہیں۔لغو کام، بیہودہ کام ، چوریاں چکاریاں ، ڈاکے وغیرہ اس میں یہ لوگ بڑے