خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 350

خطبات مسرور جلد ہشتم 350 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 تیاری کر کے نماز جمعہ کے لئے گئے۔بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔احساس ذمہ داری بہت زیادہ تھا۔کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا۔نمازوں کے پابند تھے۔فوٹوسٹیٹ کا کام بھی کرتے تھے۔قریبی کالج سے بچے فوٹوسٹیٹ کروانے آتے تو بغیر گنے ہی پیسے رکھ لیتے۔کہتے تھے کہ کبھی کسی کے پاس پورے پیسے نہیں بھی ہوتے اس لئے میں نہیں گنتا۔بعض دفعہ مخالفین آپ کی دکان پر آپ کے سامنے ہی مخالفانہ پوسٹر لگا جاتے تھے۔آپ ان سے جھگڑانہ کرتے اور بعد میں اتار دیتے۔اپنے بیٹے کو کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو خاموشی سے واپس آ جاؤ۔اگر آپ نے جواب دیا تو پھر آپ نے اپنا معاملہ خود ہی ختم کر لیا۔اگر اللہ پر چھوڑ دیا تو اللہ ضرور بدلہ لے گا۔مکرم حسن خورشید اعوان صاحب اگلا ذکر ہے مکرم حسن خورشید اعوان صاحب شهید ابن مکرم خورشید اعوان صاحب کا۔شہید مرحوم کا تعلق بندیال ضلع چکوال سے تھا۔ان کے والد اور دادا پیدائشی احمدی تھے۔تاہم کچھ عرصہ قبل ان کی فیملی کے دیگر افراد نے کمزوری دکھاتے ہوئے ارتداد اختیار کر لیا جبکہ شہید مرحوم بفضلہ تعالیٰ شہادت کے وقت تک جماعت سے وابستہ رہے۔ان کے ایک اور بھائی مکرم سعید خورشید اعوان صاحب جو جر منی میں ہیں ، انہوں نے بھی جماعت کے ساتھ وابستگی رکھی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 24 سال تھی۔غیر شادی شدہ تھے۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کرنے گئے۔دہشتگردوں کے آنے پر گھر فون کر کے بتایا کہ مسجد پر حملہ ہو گیا ہے، میں زخمی ہوں ، دعا کریں۔اسی دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔ان کے فیملی کے غیر از جماعت ممبران ان کے احمدی ہونے کے بارے میں اعتراضات کرتے رہے جس پر ان کے والدین ان کے دباؤ میں آگئے اور اطلاع دی کہ اگر احمدی احباب نے نماز جنازہ پڑھی تو علاقے میں فساد پھیل جائے گا۔یہاں پر ختم نبوت والے (نام نہاد ختم نبوت والے کہنا چاہئے ) کافی ایکٹو (Active) ہیں۔انہی وجوہات کی بنا پر احمدی احباب کو نماز جنازہ ادانہ کرنے دی گئی۔غیر از جماعت نے ہی نماز جنازہ پڑھی اور تدفین کی۔تاہم علاقے میں عام لوگ مجموعی طور پر اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے رہے۔شہید کے والد پہلے تو مخالفت کے باعث کوائف دینے سے انکار کرتے رہے، جس پر سمجھایا گیا کہ آپ کے بیٹے نے جان دے کر پیغام دیا ہے کہ دنیاوی لوگوں سے خوف نہ کھائیں، خواہ جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔شہید مرحوم کی قربانیوں کو چھپانا شہید کے ساتھ زیادتی ہے۔لیکن پھر بھی انہوں نے کوئی کوائف نہیں دیئے۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کی یہ قربانی ان کے گھر والوں کی بھی آنکھیں کھولنے کا باعث بنے۔مکرم ملک حسن خورشید اعوان صاحب کے بارے میں امیر صاحب چکوال نے لکھا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔پچھلے چند سالوں سے آپ کے والد مکرم ملک خورشید احمد صاحب نے