خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 351
خطبات مسرور جلد ہشتم 351 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 جماعت احمدیہ سے علیحدگی اختیار کی تو ملک حسن خورشید صاحب اپنے حقیقی عقیدہ یعنی احمدیت سے منسلک رہے اور تادم آخر اس کے ساتھ رہے۔نماز جمعہ گڑھی شاہو دارالذکر میں جاکر ادا کرتے تھے۔متعدد بار والدین کے اصرار کے باوجو داپنے ایمان پر قائم رہے۔مکرم محمود احمد شاد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم و محترم محمود احمد شاد صاحب شہید مربی سلسلہ ابن مکرم چوہدری غلام احمد صاحب کا۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق خونن ضلع گجرات سے تھا۔شہید مرحوم کے دادا مکرم فضل داد صاحب نے بیعت کی تھی۔شہید مرحوم کے والد بہت متعصب تھے۔ایک دفعہ ایک کتاب تبلیغ ہدایت“ فرش پر بکھری پڑی تھی اس کو اکٹھا کرنے لگے اور سوچا کہ اس کو پڑھنا نہیں ہے۔لیکن جب ترتیب لگارہے تھے تو کچھ حصہ پڑھا، د چپی پید اہوئی اور ساری کتاب پڑھنے کے بعد کہا کہ میں نے بیعت کرنی ہے۔اور 1922ء میں گیارہ سال کی عمر میں بیعت کر لی۔شہید مرحوم کے والد صاحب نائب تحصیلدار رہے۔آپ نے کبھی کسی سے رشوت نہیں لی تھی۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی سندھ میں زمینوں کے مختار عام تھے اور انتہائی نیک اور متقی انسان تھے۔شہید مرحوم 31 مئی 1962 ء کو پیدا ہوئے اور پیدائشی وقف تھے۔1986ء میں جامعہ پاس کیا۔اس کے علاوہ محلے کی سطح پر متعدد جماعتی عہدوں پر خدمت کا موقع ملا۔اس کے علاوہ نائب ایڈیٹر ماہنامہ خالد کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔پاکستان کے مختلف شہروں میں بطورِ مربی سلسلہ تقرری کے علاوہ تنزانیہ میں بھی گیارہ سال مربی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔بیت النور ماڈل ٹاؤن میں قریباً تین ماہ قبل تقرری ہوئی تھی۔بوقتِ شہادت ان کی عمر قریباً 48 سال تھی اور نظامِ وصیت میں بھی شامل تھے۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز نیا سوٹ پہنا، نیار ومال لیا۔اپنی رہائشگاہ میں دور کعت ادا کرنے کے بعد اپنے بیٹے کے ہمراہ نماز جمعہ کے لئے مین ہال میں پہنچ گئے۔لوگوں نے بتایا کہ حملے کے دوران آپ مسلسل لوگوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔جب حملہ آور مسجد کے اندر آیا تو آپ نے بلند آواز میں نعرہ بھی لگایا اور مسلسل درود شریف کا ورد کرتے رہے۔آپ کے سینے میں دو گولیاں لگی تھیں جس کی وجہ سے آپ کی شہادت ہو گئی۔اس سانحہ میں آپ کا بیٹا اللہ کے فضل سے محفوظ رہا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ شہادت سے ایک روز قبل مورخہ 27 مئی کی رات ایم ٹی اے پر عہد نشر ہو رہا تھا۔( وہ عہد جو خلافت کا میں نے خلافت جو بلی پر دہرایا تھا) انہوں نے اونچی آواز میں یہ عہد دوہرایا اور یہ ارادہ کیا کہ جمعہ کے دن خطبہ کے بعد پوری جماعت کے ساتھ یہ عہد دہرائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اہلیہ نے مزید بتایا کہ آپ بہت ہی نڈر تھے۔جب جماعت کے خلاف آرڈینس آیا تو اس کے