خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد ہشتم 349 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 جنازہ پڑھائی جس میں بہت سے غیر از جماعت لوگوں نے شرکت کی۔شہید مرحوم کی والدہ نے شہادت سے ایک ماہ قبل خواب میں دیکھا کہ ان کا بیٹا شہید ہو گیا ہے اور اس کی میت کو صحن میں رکھا گیا ہے اور میں بیٹے کے منہ پر پیار سے ہاتھ پھیرتی ہوں اور پوچھتی ہوں کہ کیا ہوا؟ اس خواب سے گھبرا کر اٹھ جاتی ہوں اور صدقہ دیتی ہوں۔شہادت کے بعد اسی جگہ پر جنازہ لا کر رکھا گیا جہاں خواب میں دیکھا تھا۔شہادت سے چند دن پہلے شہید نے خود بھی ایک خواب دیکھا اور ہڑ بڑا کر اٹھ گئے۔والدہ کو صرف اتنا بتایا کہ بہت بُر اخواب ہے۔پھر صدقہ بھی دیا۔شہید مرحوم بہت ہی ایماندار اور نیک فطرت انسان تھے۔دوسروں سے ہمدردی اور محبت سے پیش آتے تھے۔والدین کی خدمت بڑی توجہ سے کیا کرتے تھے۔ان کے چچانے مجھے بتایا کہ کام سے گھر آتے تھے تو پہلے والدین کو سلام کرتے تھے پھر بیوی بچوں کے پاس اپنے گھر جاتے تھے۔اور روزانہ رات کو اپنے والد کے پاؤں دبا کے سویا کرتے تھے۔انہوں نے والد والدہ کی کافی خدمت کی خدمت کا حق ادا کیا۔ڈیڑھ سال ہوا ان کی شادی کو ، ان کی ایک چار ماہ کی وقف نو کی بچی ہے۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔مکرم منور احمد قیصر صاحب اگلا ذکر ہے مکرم منور احمد قیصر صاحب شہید ابن مکرم میاں عبد الرحمن صاحب کا۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق قادیان سے تھا، قادیان سے پاکستان بننے کے بعد گوجرہ منتقل ہوئے۔اس کے بعد لاہور شفٹ ہو گئے۔ان کے خاندان میں سب سے پہلے حضرت عبد العزیز صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آڑھتی تھے انہوں نے بیعت کی تھی۔وہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔یہ شہید مرحوم کے دادا مکرم میاں دوست محمد صاحب کے کزن تھے۔ان کے دادا اور خاندان کے دیگر لوگوں نے خلافت ثانیہ میں بیعت کی۔شہید مرحوم پیشے کے لحاظ سے فوٹو گرافر تھے۔پچھلے قریباً ہمیں سال سے جمعہ کے روز دارالذکر کے مین گیٹ پر ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 57 برس تھی۔مسجد دارالذکر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔دارالذکر کے مین گیٹ پر ڈیوٹی کے دوران کئی دفعہ اس بات کا اظہار کیا کہ اگر کوئی حملہ کرے گا تو میری لاش سے گزر کر ہی آگے جائے گا۔سانحہ کے روز قریبا گیارہ بجے ڈیوٹی پر پہنچے فرنٹ لائن پر کھڑے تھے کہ 1:40 پر دہشتگردوں نے آتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ایک کو تو انہوں نے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرے نے آپ پر فائر کر کے آپ کو شہید کر دیا۔اہلیہ محترمہ نے چند دن قبل خواب میں دیکھا کہ ایک تابوت ہے جو عام سائز سے کافی اونچا ہے جس کے قریب ایک بینچ پڑا ہے۔ان کے ایک عزیز پیج پر پاؤں رکھ کر تابوت کے اندر لیٹ جاتے ہیں۔پوچھنے پر کہ یہ کیوں لیٹے ہیں حالانکہ یہ تو اچھے بھلے ہیں، (یہ واقعہ بیچ میں رہ گیا ہے پورا بیان کرنے سے ) اہلیہ نے بتایا کہ جمعہ پر جانے سے پہلے میں نے ان کو گولڈن رنگ کا سوٹ استری کر کے دیا اور ساتھ ہی کہا کہ آج تو آپ دلہوں والا سوٹ پہن رہے ہیں۔چنانچہ خوب