خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد ہشتم 252 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 جاویں“۔اگر تیری حفاظت ہمیں نہ بچاوے اور تیرا رحم ہماری دستگیری نہ کرے تو ہم ضرور ٹوٹے والوں میں سے ہو (بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 520 سورۃ الاعراف زیر آیت 13) کاش کہ یہ بات ان لوگوں کو بھی سمجھ میں آجائے جو اپنے آپ کو امت مسلمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور جس مسیح موعود کے آنے کی آنحضرت صلی علیہ ہم نے پیشگوئی فرمائی تھی اور جو خدا تعالیٰ کی تائیدات کے ساتھ مبعوث ہوا اس کو ماننے لگ جائیں۔بجائے اس کی مخالفت کرنے کے اور باغیانہ خیالات کے لوگوں کے پیچھے چل کر زمانے کے امام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کے وہ اس کو ماننے کی طرف توجہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار ہا فرمایا ہے کہ اگر یہ خدائی سلسلہ نہ ہوتا تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔پس مسیح موعود کی مخالفت کے بجائے آدم کی دعا پر غور کریں۔آج بھی بہت ساروں نے سن لیا ہو گا، ٹی وی پر بھی آرہا ہے ، اطلاعیں آرہی ہیں، لاہور میں دو مساجد پر ماڈل ٹاؤن میں اور دارالذکر میں بڑا شدید حملہ ہوا ہے۔اسی طرح کنری میں بھی جلوس نکالے گئے ہیں اس طرح دنیا میں اور جگہوں پر بھی مولویوں کے پیچھے چل کر مختلف ممالک میں مخالفت ہو رہی ہے۔کیا یہ مخالفتیں احمدیت کو ختم کر دیں گی؟ کیا پہلے کبھی مخالفتوں سے احمدیت ختم ہوئی تھی؟ ہر گز نہیں ہوئی اور نہ یہ کر سکتے ہیں۔ہاں ان کو ضرور اللہ تعالیٰ کی پکڑ عذاب کا مورد بنادے گی۔ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔”دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطان سے جنگ ہوا تو اس وقت سوائے دعا کے کوئی اور حربہ کام نہ آیا۔آخر شیطان پر آدم نے فتح بذریعہ دعا پائی“۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 171) پھر آپ فرماتے ہیں:۔”ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا، نہ تلوار سے۔آدم اول کو ( شیطان پر) فتح دعا ہی سے ہوئی تھی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخسِرِينَ (الاعراف:24) “ اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔فرمایا:۔” اور آدم ثانی کو بھی (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے آدم ثانی فرمایا ہے) جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرنا ہے ، اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہو گی“۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 191-190) پس جب یہ دشمنیاں بڑھ رہی ہیں، بلکہ دشمنی میں بعض جگہ معمولی اضافہ نہیں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، اور یہ اضافہ ہو تا چلا جارہا ہے ہمیں دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ