خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 251

خطبات مسرور جلد ہشتم 251 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 کو شیطان بنا دیتا ہے۔جب تک انسان اس راہ سے قطعاًد دور نہ ہو قبولِ حق و فیضانِ الوہیت ہر گز پا نہیں سکتا“۔(بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 520 سورۃ الاعراف زیر آیت 13) یعنی اللہ تعالی کا جو حق کا پیغام ہے وہ اس کو کبھی قبول نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ کے جو فیض ہیں ان سے استفادہ نہیں کر سکتا۔اور یہ سب اس مخالفت کا نتیجہ ہے جو انبیاء کی کی جاتی ہے۔چاہے جتنی بھی عبادتیں ہوں، جتنے بھی سجدے ہوں وہ کوئی فائدہ نہیں دے رہے ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے :۔تم میری مخالفت میں اور مجھے بد دعائیں دینے کے لئے سجدے کرو اور ناکیں رگڑ لو۔تمہاری ناکیں جل جائیں گی لیکن تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔(ماخوذازار بعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 400) پھر فرماتے ہیں:۔کیونکہ یہ تکبر اس کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔پس کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے ، نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر تکبر انہیں باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک انسان اپنے آپ کو ان گھمنڈوں سے پاک وصاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ اللہ جل شانہ کے نزدیک پسندیدہ و برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت الہی جو جذبات نفسانی کے مواد رڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی۔یہ کھو کھلے علم جو ہیں یہ صرف کھو کھلے علم ہی رہتے ہیں ان کو معرفت نہیں مل سکتی۔فرمایا:۔”کیونکہ یہ گھمنڈ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی یہی گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو آدم علیہ السلام سے بڑا سمجھا اور کہہ دیا اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طين (الاعراف: 13) ( میں اس سے اچھا ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اس کو مٹی سے) نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بار گاہِ الہی سے مردود ہو گیا۔اس لئے ہر ایک کو اس سے بچنا چاہئے۔جبتک انسان کو کامل معرفت الہی حاصل نہ ہو وہ لغزش کھاتا ہے اور اس سے متنبہ نہیں ہوتا مگر معرفت الہی جس کو حاصل ہو جائے اگر چہ اس سے کوئی لغزش ہو بھی جاوے تب بھی اللہ تعالیٰ اس کی محافظت کرتا ہے“۔پس یہ جو انبیاء کے مخالفین ہوتے ہیں یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالفین ہیں۔یہ ان کا تکبر ہے اور یہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں رہ سکتے بلکہ شیطان کی گود میں گرتے چلے جاتے ہیں۔فرمایا:۔”چنانچہ آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش پر اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور سمجھ لیا کہ سوائے فضل الہی کے کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے دعا کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ ظلم کیا۔تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف : 24) (اے رب ہمارے! ہم نے اپنی جانوں پر