خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 253

253 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم با وجو د ساری مخالفتوں کے باوجود تمام تر روکوں کے باوجود اس کے کہ شیطان ہر راستے پر بیٹھا ہوا ہے جماعت بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔سعید فطرت لوگوں کے ذریعے ملائکتہ اللہ بھی حرکت میں ہیں اور جو سعید فطرت لوگ ہیں وہ جماعت میں شامل ہوتے چلے جارہے ہیں۔سورۃ اعراف میں یہ دعا سکھائی گئی ہے رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا (الاعراف:24) اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے اور زیادہ سے زیادہ برکات کو سمیٹنے اور شیطان کے ہر حملے سے بچنے کے لئے دعاؤں کی طرف اور اپنی اصلاح کی طرف ہمیں انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”حکمتِ الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتداء سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیئے۔یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا : فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سجدِینَ ( الحجر : 30 یعنی جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک بنالوں اور میں اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو! اسی وقت تم سجدے میں گر جاؤ“۔فرمایا:۔کہ مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطر تأخد ا سے تعلق پیدا ہو جاوے۔ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہو گا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی“۔ریویو آف ریلیجنز مئی 1902 جلد اول نمبر 5 صفحہ 178-177) پس یہ تو ہے ہماری ذمہ داری کہ اللہ تعالیٰ کے تعلق میں اور بڑھیں اور اگر ہمارا یہ تعلق صحیح ہو گا تو یہ جو آدم کی فطرت ہے ، یہ ہماری فطرت کا خاصہ بن جائے گی۔اسی طرح حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔پس اس مشن کو آگے بڑھاتے جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لے کر آئے تھے۔لیکن شیطان کے چیلوں کو تو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے بھرنے کا فرمایا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا مخالفت کی آندھیاں تیز تر ہو رہی ہیں۔لاہور میں جو مسجد پر حملہ ہوا ہے اس کے نقصان کی نوعیت ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی۔لیکن کافی زیادہ شہادتیں بھی ہوئی ہیں اور زخمی بھی بہت زیادہ ہیں اور بعضوں کی حالت کافی critical ہے۔دارالذکر میں ابھی تک پوری طرح صور تحال واضح نہیں ہوئی۔پتا نہیں کس حد تک شہادتیں ہو جاتی ہیں۔لوگ جمعہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔بہر حال تفصیلات آئیں گی تو پتہ لگے گا لیکن کافی تعداد میں شہادتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب شہیدوں کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کے لئے دعا کریں