خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد ہشتم 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 دی ہوئی تعلیم کے مطابق ہو۔صحت مند جسم دیا ہے تو عبادت اور اس کے راستے میں اس کے دین کی خدمت کر کے اس کا شکر ادا کریں۔اگر کشائش عطا فرمائی ہے تو کسی قسم کی رعونت، تکبر اور فخر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرف توجہ کریں۔اگر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور استعدادوں اور مال اور اولاد کے صحیح مصارف خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ہیں تو طبعی شکر گزاری بھی ہے اور پھر خدا تعالیٰ جو اپنے بندے پر بہت رحم کرنے والا ہے اور ایک کے بدلے کئی گنا دینے والا ہے۔وہ استعدادیں بھی بڑھاتا ہے، صحت بھی دیتا ہے، کشائش بھی دیتا ہے ، ایک عابد بندے کو اپنے قرب سے بھی نوازتا ہے۔اس کا جو مقصد پیدائش ہے اس کے حصول کی بھی توفیق دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر انسان اپنے زورِ بازو سے عبادت یعنی مقبول عبادت بھی نہیں کر سکتا۔اگر عبادت کرتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر وہ قابل قبول نہیں تو ایسی عبادت بھی بے فائدہ ہے۔پس یہ شکر گزاری کا مضمون ہے جو نیکیوں میں بڑھنے کی بھی توفیق دیتا ہے۔تقویٰ میں بڑھنے کی توفیق دیتا ہے۔کیونکہ انسان اپنے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نتیجہ قرار دے کر اس کی طرف جھکتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے شکر گزار بندوں کی طرف توجہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ (آل عمران: (116) اور جو نیکی بھی وہ کریں اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔پس تقویٰ بھی شکر گزاری سے بڑھتا ہے کیونکہ شکر گزاری بھی ایک نیکی ہے۔اور حقیقی نیکیوں کی توفیق بھی اپنے تمام تر وجود، مال، صلاحیتوں اور نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی طرف منسوب کرنے سے ملتی ہے اور ایسے نیکیوں میں بڑھنے والے اور شکر گزار مومنوں کے لئے خدا تعالیٰ خود کس طرح اپنے شکور ہونے کا ثبوت دیتا ہے ، اس کی مزید وضاحت کے لئے اس طرح بیان فرمایا کہ لِيُوَفِّيَهُم أَجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۖ إِنَّهُ غَفُورٌ شکور۔(فاطر : 31) یعنی تا کہ وہ انہیں ان کے اعمال کے پورے پورے اجر دے اور ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ بڑھا دے یقیناً وہ بہت بخشنے والا اور بہت قدر دان ہے۔جب اللہ تعالیٰ اپنے لئے شکور کا لفظ استعمال کرتا ہے تو بندوں والی عاجزی اور شکر گزاری نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جو تمام طاقتوں اور قدرتوں کا مالک ہے وہ جب شکور بنتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی عاجزی اور شکر گزاری اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کو پسند کیا ہے اور خالص ہو کر اس کی خاطر کی گئی عبادتیں اور تمام نیکیاں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہیں۔اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غفور کے لفظ کے ساتھ شکور کا لفظ استعمال فرمایا کہ وہ بخشنے والا ہے اور قدردان ہے۔انسان جو کمزور ہے جب اس کو احساس ہو جائے کہ میں نے ہر نیکی خدا تعالیٰ کی خاطر بجالانی ہے اور اس کا شکر گزار بندہ بنا ہے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھکنا ہے تو اللہ تعالیٰ جو بہت