خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 189
189 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کوشش کرنی ہے، اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہے وہ نہ صرف شوق سے خطبات سنتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو ہی ان کا مخاطب سمجھتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا ایک تعداد ایسی بھی ہے جو یا تو خطبات کو سنتی نہیں یا اپنے آپ کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتی یار سمی طور پر سن لیتی ہے۔اس لئے میں بعض معاملات کی طرف ہر ملک میں بار بار اپنے خطبات میں توجہ دلا تا ہوں کیونکہ دورے کی وجہ سے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد جمعہ پر حاضر ہو جاتی ہے۔ہر احمدی کے اندر ایک نیکی کا بیچ تو ہے۔خلافت سے ایک تعلق تو ہے جس کی وجہ سے باوجود عمومی کمزوریوں کے جب سنتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا دورہ ہے اور خطبہ ہے ، جلسہ ہے تو ایک خاص شوق اور جذبے سے اس پروگرام میں شامل ہوتے ہیں چاہے خطبہ ہو یا کوئی اور پروگرام ہو۔پس آج اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں سوئٹزرلینڈ کے احمدیوں کو بھی بعض امور کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور سب سے پہلی بات تو یہی ہے جو شروع میں میں نے کہی کہ عبد شکور بنیں، شکر گزار بندے بنیں۔خاص طور پر یورپ کے ممالک میں آنے والے احمدی اور آپ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے سوئٹزر لینڈ میں آکر رہنے اور مالی سکون و کشائش عطا فرمائے ، ان کو بہت زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے شکر گزاری کے مضمون کو قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : 8 ) اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ لوگو! اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی شکر گزاری کی طرف توجہ دلائی ہے یا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اظہار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی شکر گزاری اور اس کا اظہار کیا ہے ؟ اس کی شکر گزاری کا اظہار اس کی کامل فرمانبرداری ہے۔اس کے حکموں کی پابندی ہے۔جن باتوں کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے انہیں پوری توجہ سے سر انجام دینا ہے اور جن باتوں سے اس نے روکا ہے ان سے کامل فرمانبر داری کا نمونہ دکھاتے ہوئے رُک جانا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے تو ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ اپنی زندگی عبدِ شکور بن کر گزارے اور عبد شکور بننے کے لئے اپنے دل و دماغ میں اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد رکھے۔اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد رکھتے ہوئے اس کے ذکر سے تر رکھے۔اللہ تعالیٰ نے جن انعامات سے نوازا ہے انہیں یادر کھے اور انہیں یاد رکھتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد کا اظہار ہو۔اللہ تعالیٰ کی حمد زبان پر جاری رہے اور صرف زبان پر نہ جاری ہو بلکہ ایک حقیقی مومن کا اظہار اس کے ہر عضو سے ہوتا ہو، اس کی ہر حرکت و سکون سے ہو تا ہو۔اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ بننے کی کوشش ہو۔یہ عاجزی اس وقت ہو سکتی ہے جب حقیقت میں تمام نعمتوں کا دینے والا خد اتعالیٰ کی ذات کو سمجھا جائے۔اللہ تعالیٰ کا پیار دل میں ہو۔جو نعمتیں اس نے دی ہیں ان کا استعمال اس کی