خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 191

خطبات مسرور جلد ہشتم 191 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 بخشنے والا ہے، جس کی رحمت بہت وسیع ہے وہ اپنی مغفرت کی چادر میں اپنے بندے کو ڈھانپ لیتا ہے۔اس کے گناہوں اور کمزوریوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور اپنی طرف بڑھنے والے اپنے بندے کے ہر قدم کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے انعامات میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔پس یہ ہمارا خدا ہے جو ہر لحاظ سے اپنے بندے کو نوازتا ہے۔اسے دنیا بھی ملتی ہے اور اس کو نیکیوں کے اجر بھی ملتے ہیں۔اگر ایسے مہربان اور قدر دان خدا کو چھوڑ کر بندہ اور طرف جائے تو ایسے شخص کو بیوقوف اور بد قسمت کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ پس آپ لوگ جو اس ملک میں آکر آباد ہوئے ہیں، اپنے جائزے لیں۔آپ اپنے ماضی کو دیکھیں اور اس پر نظر رکھیں تو آپ میں سے اکثر یہی جواب پائیں گے کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر اپنا فضل فرمایا ہے۔اپنے وطن سے بے وطنی کوئی بلا وجہ اختیار نہیں کرتا۔یا تو ظالموں کی طرف سے زبردستی نکالا جاتا ہے یا ظلموں سے تنگ آکر خود انسان نکلتا ہے ، یا معاش کی تلاش میں نکلتا ہے۔اگر احمدی اپنے جائزے لیں تو صاف نظر آئے گا کہ جو صورتیں میں نے بیان کی ہیں ان میں سے اگر پہلی صورت مکمل طور پر نہیں تو دوسری دو صورتیں بہر حال ہیں۔ظلموں سے تنگ آکر نکلنا بھی جیسا کہ میں نے کہا ذہنی سکون اور معاش کی تلاش کی وجہ سے ہی ہے۔اور ان ملکوں کی حکومتوں نے آپ کے حالات کو حقیقی سمجھ کر آپ لوگوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ سب فضل ہم پر احمدیت کی وجہ سے کئے ہیں۔پس یہ پھر اس طرف توجہ دلانے والی چیز ہے کہ احمدیت کے ساتھ اس طرح چمٹ جائیں جو ایک مثال ہو تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی شکر گزاری ہو گی۔اگر جماعت کی قدر نہیں کریں گے اگر خلیفہ وقت کی باتوں پر کان نہیں دھریں گے تو آہستہ آہستہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دور کر رہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرتے چلے جائیں گے۔پس غور کریں، سوچیں کہ اگر یہ دنیا آپ کو دین سے دور لے جارہی ہے تو یہ انعام نہیں ہلاکت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری ہے۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے اس زمانے کے امام کی بیعت کی ہے جس کے آنے کی ہر قوم منتظر ہے۔جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے پیار کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ ہم نے سلام بھیجا ہے۔( المعجم الاوسط جلد 3 من اسمہ عیسی حدیث نمبر 4898 صفحہ 383-384 - دار الفکر ، عمان اردن طبع اول 1999 ء) تو کیا ایسے شخص کی طرف منسوب ہونا کوئی معمولی چیز ہے؟ یقیناً یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو ایک احمدی کو ملا ہے۔پس اس اعزاز کی قدر کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔یہ قدر پھر ایک حقیقی احمدی کو عبد شکور بنائے گی اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے بڑھ کر اترتے دیکھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے منسوب ہونا صرف زبانی اعلان نہیں ہے بلکہ ایک عہد بیعت ہے جو ہم نے آپ سے کیا ہے اور آپ کے بعد آپ کے نام پر خلیفہ وقت سے وہ عہد کیا ہے۔اس بیعت کے مضمون کو سمجھنے