خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 665
خطبات مسرور جلد ہشتم 665 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 پس حیا اور تقدس کے اظہار اور حفاظت کے ساتھ ساتھ جلسے میں شامل ہونے والے اپنی نمازوں کی بھی خاص طور پر حفاظت کریں۔اذان کی آواز پر ہر ایک کا رخ مسجدوں کی طرف ہونا چاہئے۔اسی طرح جلسے کی کارروائی کے دوران بھی جلسے کو سننے کی بھر پور کوشش اور توجہ ہونی چاہئے۔جلسہ کوئی میلہ نہیں ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔وہاں اس وقت کی اطلاع کے مطابق چھ سات ہزار مہمان تو باہر سے آچکے ہیں، اور بھی آئیں گے انشاء اللہ۔تو ہر ایک جلسے کے تقدس کا بھی خیال رکھے۔بلکہ پاکستان سے آئے ہوئے بہت سارے لوگ ہیں کہ اُن کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست بھی جلسے میں شامل ہو کر روحانی فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرمایا ہے۔پس ایک حقیقی موسسن کی طرح بھر پور فائدہ اٹھانے کی ہر ایک کو وہاں کوشش کرنی چاہئے۔نصیحت اور ہدایت کی بات شروع ہوئی ہے تو اس طرف بھی توجہ دلا دوں کہ جلسہ میں شامل ہونے والے ہر فرد کے دل میں اور عمل میں قربانی کا بھی بھر پور اظہار نظر آنا چاہئے۔نہ قیام گاہوں میں بد نظمی ہو۔نہ کھانے کے اوقات میں بد نظمی ہو۔نہ جلسہ گاہ میں داخل ہوتے ہوئے اور نکلتے وقت بد نظمی ہو۔عموماً بد نظمی خود غرضی کی وجہ سے ، اپنا حق پہلے لینے کی کوشش کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔پس اگر چھوٹی سے چھوٹی بات سے لے کر بڑی باتوں تک قربانی دکھائیں گے تو کبھی بد نظمی نہیں ہو سکتی۔اور بعض دفعہ بعض مفاد پرست یا حاسدین جو حسد کی وجہ سے خواہش رکھتے ہیں اور بعض دفعہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ کسی طرح کسی انتظام میں بد نظمی پیدا کی جائے تا کہ اُن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل جائے تو ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی احمدی کو کبھی اُن لوگوں کی خواہش کے مطابق اس قسم کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے جس سے جماعت کی بدنامی اور سبکی ہو یا کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہو۔قادیان میں ہندو بھی رہتے ہیں، سکھ بھی رہتے ہیں، عیسائی بھی رہتے ہیں۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ ہر ایک کی عزت اور احترام کرے۔عموماً وہاں کے رہنے والے لوگ بڑے اچھے ہیں۔لیکن اگر کسی سے کوئی غلط بات ہو بھی جائے تو اپنے جذبات پر کنٹرول رکھیں۔قادیان کے رہنے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔بعض دفعہ کسی مہمان کی غیرت کی وجہ سے میزبان یا وہاں کے رہنے والے جذبات میں آجاتے ہیں، یا کوئی بات سن کر جذبات میں آجاتے ہیں۔تو کسی بھی قسم کا ایسا جذباتی اظہار نہیں ہونا چاہئے جس سے کسی بھی قسم کے فساد یا فتنے کا خطرہ پیدا ہو سکے۔اسی طرح وہاں رہنے والے آپس میں سلام کو رواج دیں۔چلتے پھرتے ایک دوسرے کو جانتے ہیں یا نہیں جانتے سلام کریں تاکہ محبت اور بھائی چارے کی فضا پید اہو اور مزید بڑھے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ جلسے کے دن جہاں پاکستان میں رہنے والے احمدیوں کے لئے خاص دن ہیں۔انہیں دعاؤں میں گزاریں۔جلسے پر پاکستان سے جو قادیان میں آئے ہوئے لوگ ہیں وہ بھی اور دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ بھی اور ہندوستان والے جو ہیں وہ بھی سب خاص طور پر ان دنوں کو دعاؤں میں