خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 449 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 449

خطبات مسرور جلد ہشتم 449 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 جنبش میں آگئی۔تب جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ ان راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے خواب غفلت سے جاگ تو اٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہو گئے لیکن باعث نقصان استعداد حق کی طرف رخ نہ کر سکے۔سو فعل ملائک کا جو ربانی مصلح کے ساتھ اترتے ہیں، ہر یک انسان پر ہوتا ہے۔لیکن اس فعل کا نیکوں پر نیک اثر اور بدوں پر بد اثر پڑتا ہے۔اور جیسا کہ ہم ابھی اوپر بیان کر چکے ہیں یہ آیت کریمہ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ( البقرة: 11)۔اسی مختلف طور کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے“۔فرمایا ”یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلتہ القدر ہوتی ہے جس میں وہ نبی اور وہ کتاب جو اس کو دی گئی ہے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور فرشتے آسمان سے اترتے ہیں۔لیکن سب سے بڑی لیلتہ القدر وہ ہے جو ہمارے نبی صلی للی کم کو عطا کی گئی ہے۔در حقیقت اس لیلۃ القدر کا دامن آنحضرت صلی الم کے زمانہ سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔اور جو کچھ انسانوں میں دلی اور دماغی قوی کی جنبش آنحضرت صلی الم کے زمانے سے آج تک ہو رہی ہے وہ لیلتہ القدر کی تاثیریں ہیں۔صرف اتنا فرق ہے کہ سعیدوں کے عقلی قویٰ میں کامل اور مستقیم طور پر وہ جنبشیں ہوتی ہیں اور اشقیاء کے عقلی قومی ایک سج اور غیر مستقیم طور سے جنبش میں آتے ہیں۔اور جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ تم کا کو ئینائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں۔بلکہ اسی زمانہ سے کہ وہ نائب رحم مادر میں آوے، پوشیدہ طور پر انسانی قوی کچھ کچھ جنبش شروع کرتے ہیں اور حسب استعداد اُن میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس نائب کو نیابت کے اختیارات ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے۔پس نائب رسول اللہ صلی للی ریم کے نزول کے وقت جو لیلتہ القدر مقرر کی گئی ہے وہ در حقیقت اس لیلتہ القدر کی ایک شاخ ہے یا یوں کہو کہ اس کا ایک ظل ہے جو آنحضرت صلی للی کم کو ملی ہے۔خدائے تعالیٰ نے اس لیلتہ القدر کی نہایت درجہ کی شان بلند کی ہے جیسا کہ اس کے حق میں یہ آیت کریمہ ہے کہ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (الدخان:5) یعنی اس لیلتہ القدر کے زمانے میں جو قیامت تک ممتد ہے ، ہر یک حکمت اور معرفت کی باتیں دنیا میں شائع کر دی جائیں گی اور انواع و اقسام کے علوم غریبہ و فنونِ نادرہ وصناعات عجیبہ صفحہ عالم میں پھیلا دیئے جائیں گے۔اور انسانی قوی میں موافق ان کی مختلف استعدادوں اور مختلف قسم کے امکان بسطت علم اور عقل کے جو کچھ لیاقتیں مخفی ہیں یا جہاں تک وہ ترقی کر سکتے ہیں سب کچھ بمنصئہ ظہور لایا جائے گا۔لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پر زور تحریکوں سے ہو تا رہے گا کہ جب کوئی نائب رسول اللہ صلی ای کم دنیا میں پید اہو گا۔در حقیقت اسی آیت کو سورۃ الزلزال میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ سورۃ الزلزال سے پہلے سورۃ القدر نازل کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ سنت اللہ اسی