خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 450
خطبات مسرور جلد ہشتم 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالیٰ کا کلام لیلتہ القدر میں ہی نازل ہوتا ہے اور اس کا نبی لیلتہ القدر میں ہی دنیا میں نزول فرماتا ہے۔اور لیلتہ القدر میں ہی وہ فرشتے اترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پر ظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 155 تا160) پس یہ ہے وہ خو بصورت وضاحت جس کا ذکر جیسا کہ میں نے کہا آپ نے مختلف رنگ میں مختلف جگہوں پر کیا ہے، مختلف کتابوں میں کیا ہے۔یہ ایک نمونہ ہے۔اگر دنیا کو ، خاص طور پر مسلمانوں کو یہ بات سمجھ آجائے، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرستادہ کی مخالفت کے بجائے اس کے مددگار بن جائیں۔یہ دلیل جو آپ نے دی ہے بڑی زبر دست دلیل ہے۔اس کو ان لوگوں کی توجہ کھینچنے والا ہو نا چاہئے جو اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمیں امن اور سکون چاہئے۔اور زمانے کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کی تلاش میں ہیں۔یا مسیحو مہدی کے زمانے کی احادیث میں بیان کی گئی نشانیوں کے مطابق مسیح و مہدی کی آمد کے منتظر ہیں۔ایسے لوگوں کو آپ کے ان الفاظ پر غور کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں۔جو میں نے پڑھا ہے اس میں ایک فقرہ یہ ہے کہ ”اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانہ میں یک دفعہ ایک خارق عادت طور پر انسانوں کے قویٰ میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہو گی کہ کوئی آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا ہونا ممکن نہیں“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 155-156) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں اس وقت کے علماء اور نیک لوگوں کی تحریریں اگر پڑھیں اور اقوال دیکھیں تو سب اس بات کے گواہ ہیں کہ مسیح اور مہدی کے آنے کا وقت ہے۔وہ کسی کی آمد کے انتظار میں تھے کہ کوئی مسیحا آئے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ فرمایا تو انہی میں سے ایک طبقہ مخالفت میں بڑھ گیا۔اور بہت سوں نے اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کے بجائے بگاڑ لی۔اور بہت سے ایسے تھے جنہوں نے اپنی دنیا وعاقبت سنوارنے کا سامان کر لیا۔اور آج تک یہ بے چینی لوگوں میں ہے۔مختلف وقتوں میں سوال اٹھتے رہتے ہیں اور وقتا فوقتا اخباروں میں یہ بیان آتے رہتے ہیں کہ کسی مسیحا کی ضرورت ہے، کوئی کہتا ہے کہ مسلم اللہ کو سنبھالنے کے لئے خلافت کی ضرورت ہے۔لیکن جب تک مسیح موعود نہیں آئے گا خلافت کس طرح جاری رہ سکتی ہے۔یہ جو سب باتیں ہیں، یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یا بیان جاری ہوتے ہیں یالوگوں کے احساسات ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا آگیا ہے۔یہی دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے۔تبھی دلوں میں یہ سارا ارتعاش پیدا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا فرستادہ آتا ہے تو دو طرح کی