خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 448

448 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 روشن اور ہدایت سے پُر کتاب اس انسانِ کامل پر اتاری جو انسانیت کی ہدایت کے لئے بے چین تھا۔جو چاہتا تھا کہ بندہ اپنے پیدا کرنے والے کے آگے جھکے بجائے اس کے کہ بتوں کی پوجا کرے۔جو چاہتا تھا کہ بندہ اللہ تعالیٰ جو واحد د یگانہ ہے اسے تمام طاقتوں کا مالک اور بخشنہار سمجھے بجائے اس کے کہ ایک عاجز انسان کو خدا کا بیٹا بنا کر اس کی موت کو اپنی نجات کا ذریعہ بنالے۔وہ کامل رسول چاہتا تھا کہ انسان ظلموں سے بچے اور جہاں خدا تعالیٰ کے حق ادا ہوں وہاں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے بھی حق ادا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ نے اس انسانِ کامل کی دعاؤں کو سنا اور انسانِ کامل پر قرآنِ کریم کی کامل شریعت اتاری۔وہ کامل کتاب اتاری جو نہ صرف چودہ سو سال پہلے کے اند ھیرے زمانے میں ہدایت کا موجب بنی بلکہ تا قیامت اب اس کامل کتاب نے ہر اندھیرے کو دور کرنے کا باعث بننا ہے۔اور اس رسول نے اب تا قیامت خاتم الانبیاء اور آخری شرعی نبی رہنا ہے۔اور جب بھی خدا تعالیٰ کے بے چین اور پریشان بندے زمانے کی تاریخ کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں گے اور چلائیں گے تو اللہ تعالٰی إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (کہ بے شک وہی بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے) کے قول کو پورا کرتے ہوئے بندوں کی تسلی کے لئے سامان پیدا فرماتا ہے۔فرمائے گا۔اور اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق اور آنحضرت صلی للی نیم کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے عاشق صادق کو آپ کی غلامی میں بھیجا ہے۔اس غلام صادق اور مسیح و مہدی نے ایک جگہ لیلتہ القدر کی جو تفسیر فرمائی ہے وہ بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: ایک نہایت لطیف نکتہ جو سورۃ القدر کے معانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جس وقت کوئی آسمانی مصلح زمین پر آتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے آسمان سے اتر کر مستعد لوگوں کو حق کی طرف کھینچتے ہیں۔پس ان آیات کے مفہوم سے یہ جدید فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک خارق عادت طور پر انسانوں کے قویٰ میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیدا ہونی شروع ہو جائے تو وہ اس بات کی علامت ہو گی کہ کوئی آسمانی مصلح پیدا ہو گیا ہے کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کے وہ حرکت پیدا ہونا ممکن نہیں۔اور وہ حرکت حسب استعداد و طبائع دو قسم کی ہوتی ہے۔حرکت تائمہ اور حرکت ناقصہ۔حرکت تامہ وہ حرکت ہے جو روح میں صفائی اور سادگی بخش کر اور عقل اور فہم کو کافی طور پر تیز کر کے رُو بحق کر دیتی ہے۔اور حرکت ناقصہ وہ ہے جو روح القدس کی تحریک سے عقل اور فہم تو کسی قدر تیز ہو جاتا ہے۔مگر باعث عدم سلامت استعداد کے وہ رُو بحق نہیں ہو سکتا۔بلکہ مصداق اس آیت کا ہو جاتا ہے کہ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ( البقرة:11) یعنی عقل اور فہم کے جنبش میں آنے سے پچھلی حالت اس شخص کی پہلی حالت سے بد تر ہو جاتی ہے۔جیسا کہ تمام نبیوں کے وقت میں یہی ہو تا رہا کہ جب ان کے نزول کے ساتھ ملائک کا نزول ہوا تو ملائک کی اندرونی تحریک سے ہر یک طبیعت عام طور پر