خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 81

خطبات مسرور جلد ہشتم 81 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 پھر کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کو علم ہوا کہ لاڑکانہ کے قریب ایک شہر میں شدھی ہونے والی ہے۔تو آپ وہاں پہنچے اور مسلمان حافظ گوکل چند نامی کو جو رئیں اور وہاں کے مسلمان نمبر دار تھے ، انہیں سمجھایا۔کہنے لگے مولویوں نے ہماری مدد نہیں کی۔اب ہندوؤں سے عہد ہو چکا ہے پرسوں سارا شہر جو ہے وہ ہند و ہو جائے گا۔پھر انہوں نے مولوی صاحب کو کھانے کے لئے کہا تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا میں تمہاری روٹی ہر گز نہیں کھاؤں گا اور ساتھ ہی زار زار رونا شروع کر دیا۔اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے۔پھر باتیں کرنے لگے۔آپ کو کھانا کھانے کو کہا آپ نے پھر انکار کر دیا اور آنسو جاری رہے۔تو رئیس نے کہا کہ عہد توڑنا تو جرم ہے، گناہ ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ ایمان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔تو یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی اور اس نے کہا کہ ہم ہر گز شدھ نہیں ہوں گے اور ہم خط بھجوا دیتے ہیں کہ وہ ہر گز نہ آئیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ پہلے آپ خط لکھیں۔پھر میں کھانا کھاؤں گا۔چنانچہ آپ نے خط لکھوایا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور ہم تمہیں بھی اس کے قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ہم میں سے کوئی بھی اپنا مذ ہب نہیں چھوڑے گا اور اگر کسی نے دوبارہ آنے کی کوشش کی تو بہت ذلیل ہو گا۔اس کے بعد پھر آپ نے کھانا کھایا اور آر یہ وہاں بھی ناکام ہوئے اور بڑے تلملائے۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 10 صفحہ 234 تا 236) سید سرور شاہ صاحب کے بارہ میں ایک روایت ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا علم جس اعلیٰ پایہ کا تھا اور علماء ہم عصر پر جو اثر تھا وہ ذیل کے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔(حضرت سرور شاہ صاحب بڑے لمبے عرصہ تک مفتی سلسلہ بھی رہے ہیں۔سید صاحب علاج کے لئے ہری پور میں مقیم تھے کہ ہسپتال کے قریب ایک پہلوان سے آپ نے دریافت کیا کہ یہ سامنے مولوی صاحب کون ہیں۔( آپ کو کوئی مولوی صاحب نظر آئے ہوں گے)۔اس نے کہا کہ کوٹ نجیب اللہ کے مولوی منہاج الدین ہیں جو اپنے آپ کو رئیس المناظرین کہتے ہیں اور آپ سے مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔( انہوں نے سنا کہ مولوی صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں اور بڑے عالم ہیں تو انہوں نے غیر احمدی مولوی سے کہا کہ اچھا میں تو بہت بڑا مناظر ہوں۔تو میں مباحثہ کروں گا۔آپ کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ نئی بات جو آپ نے اختیار کر لی ہے اس کے متعلق یعنی احمدیت کے بارہ میں کل اس مقام پر اسی وقت 10 بجے مباحثہ ہو گا۔چنانچہ آپ اگلے روز انتظار کرتے رہے اور مخالف مولوی نہ آئے۔( یہ بھی بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔) ہری پور بازار کے آخری سرے کے آگے کچھ حصہ خالی ہے۔پھر سکندر پور بازار شروع ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہری پور بازار کی طرف آپ روانہ ہوئے اور وسط میں پہنچ کر دیکھا کہ مولوی صاحب اور اس کے ساتھی آرہے ہیں لیکن آپ کو دیکھتے ہی واپس مڑے اور بھاگنا شروع کر دیا۔یعنی اس غیر احمدی مولوی نے بھاگنا شروع کر دیا۔تو مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں بھی ان کے پیچھے دوڑا۔میر اخیال تھا کہ جامعہ مسجد میں پہنچے ہوں گے لیکن وہاں سے