خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 82
خطبات مسرور جلد ہشتم 82 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 پتہ لگا کہ وہ ادھر نہیں آئے۔چنانچہ میں دوسری طرف گیا تو دیکھا کہ مولوی صاحب ایک کیچڑ والے نالے میں سے گزر کر پار باغ کی طرف جارہے ہیں۔وہ پہلوان جو تھا وہ اس کنارے پر کھڑا بڑے زور سے ہنس رہا تھا۔اتنا ہنس رہا تھا کہ ہنس ہنس کے اس کی آنکھوں سے آنسو آگئے۔تو اس نے بتایا کہ یہ مولوی منہاج الدین صاحب کل فلاں مولوی صاحب کے پاس سکندر پور گئے اور ان سے کتابیں لے کر مباحثہ کے لئے تیاری کرنے لگے اور ساری رات کتابیں پڑھتے رہے۔صبح مولوی صاحب ( یعنی جو دوسرے غیر احمدی مولوی صاحب تھے) فجر کے لئے آئے تو دریافت کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں کہ آپ ساری رات نہیں سوئے۔انہوں نے کہا مولوی سرور شاہ صاحب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے حوالے تلاش کر تارہاہوں۔لیکن جس تفسیر کو دیکھتا ہوں اس میں حضرت عیسی کی زندگی اور وفات دونوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔اس لئے کوئی قاطع دلیل (کوئی اچھی دلیل جو منہ بند کرانے والی ہو) وہ نہیں مل رہی۔تو سکندر پوروالے مولوی صاحب استاذ الگل تھے انہوں نے مباحثہ کے لئے تیاری کرنے والے مولوی کو کہا کہ مولوی سرور شاہ صاحب کے احمدی ہونے کی وجہ سے مجھے آپ سے زیادہ صدمہ ہوا ہے اور مجھے بھی ان لوگوں نے ان کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے آمادہ کیا ہے لیکن میں نے اس امر سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اس لئے کہ مولوی صاحب سارے ضلع کو آگے لگا لینے والے ہیں ان سے مباحثہ کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام ضلع کے علماء ان کے آگے آگے بھاگنے لگیں گے اور ان سے جتنی زیادہ باتیں کی جائیں گی اتنا ہی زیادہ نقصان ہو گا اور علماء کی مٹی پلید ہو گی۔سو پہلوان نے کہا کہ اسی وجہ سے مولوی صاحب مباحثہ کے لئے آپ کے پاس نہیں آئے اور اب آپ کو دیکھ کر بھاگ گئے ہیں۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد پنجم صفحه 45-44) آج بھی علماء کا یہی حال ہے۔دعوے بڑے کرتے ہیں۔ٹی وی پر بھی آتے ہیں لیکن جب پیغام بھیجو کہ ٹھیک ہے ہمارے سے اپنے ٹی وی چینل پر یا ہمارے پر ایک مناظرہ کر لو تو کوئی جواب ہی نہیں دیا جاتا۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو الہام ہے۔نُصِرْتَ بالرغب ( تذکرہ صفحہ 53 ایڈیشن چہارم 2004ء مطبوعہ ربوہ) اس کا اللہ تعالیٰ آپ کے ماننے والوں کے ذریعہ بھی لوگوں پر اثر دکھا رہا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت حافظ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ قادیان میں ایک دفعہ پادری زویمر آیا۔یہ دنیا کا مشہور ترین پادری اور امریکہ کا رہنے والا تھا۔وہ وہاں کہیں بہت بڑے تبلیغی رسالہ کا ایڈیٹر تھا اور یوں بھی ساری دنیا کی عیسائی تبلیغی سوسائٹیوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔اس نے قادیان کا بھی ذکر سنا ہوا تھا۔جب وہ ہندوستان میں آیا تو اور مقامات دیکھنے کے بعد وہ قادیان آیا۔اس کے ساتھ ایک اور پادری گارڈن ( یا گورڈن) نامی بھی تھا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت زندہ تھے۔انہوں نے اسے