خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 80
خطبات مسرور جلد ہشتم 80 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 ہیں۔نہ دنیا حضرت محمد رسول اللہ صلی الی یوم کی پہچان کرنا چاہتی ہے بلکہ حس ہی مرگئی ہے۔دنیا میں ہر جگہ تباہی پر تباہی آرہی ہے۔لیکن بالکل اس بارہ میں سوچنے کی طرف توجہ ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کو عقل دے اور دنیا کو ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے۔پھر ملک صلاح الدین صاحب مولانا با پوری صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے کے بارہ میں اپنی روایت میں لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سندھ کے علاقہ میں تبلیغی مشن قائم فرمایا۔مولا نا بقا پوری صاحب کو اس علاقہ میں امیر التبلیغ مقرر فرمایا۔اس وقت سنجوگی قوم میں جو سندھ میں ایک لاکھ کے قریب ہے آریہ قوم نے ملکانوں کی طرح ارتداد کا جال پھیلا دیا تھا۔مولانا صاحب محنت کر کے چند ماہ میں سندھی کی چند کتابیں پڑھ کر تقریر کرنے کے قابل ہو گئے۔(اب یہ بھی اس زمانہ میں ان لوگوں کی بڑی ہمت اور محنت اور شوق تھا کہ چند مہینے میں سندھی زبان بھی سیکھ لی اور تقریر کرنے کے قابل بھی ہو گئے۔) اور اولاً سب علاقہ میں آریہ سماجیوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔جس جگہ یہ لوگ سادہ لوح سندھیوں کو ورغلا کر ارتداد پر آمادہ کرتے مولانا صاحب وہاں پہنچ کر انہیں اسلام پر پختہ کرتے۔اس طرح شب و روز کی ایک لمبی جد وجہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ سات آٹھ ماہ میں ہی سنجوگی قوم جو تھی اس سے آریہ سماج مایوس ہو گئے اور ارتداد کی یہ آگ بھی سرد ہو گئی۔لیکن پھر دوسرے سال یہ واقعہ ہوا کہ 1924ء میں علماء، امراء، فقراء یہ تینوں مل کر مولوی صاحب کے مقابلے پر کھڑے ہو گئے اور جابجا مباحثات شروع ہو گئے اور مولانا بقا پوری صاحب اکیلے ہوتے تھے اور غیر احمدی علماء کافی تعداد میں آتے تھے۔بعض دفعہ کہتے ہیں کہ در جن تک ہو جاتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ آپ ہی کو غلبہ ہوتا۔نتیجتا احمدیت کی طرف لوگوں کی توجہ اور بڑھتی گئی۔۔اس وجہ سے سندھ میں بعض مقامات پر جماعتیں بھی قائم ہو گئیں۔پھر مزید لوگ باتیں سننے لگے۔دلچسپی پیدا ہوئی تو علماء پر بھی رعب پڑ گیا اور مولوی بقا پوری کا نام لے کر کہتے تھے کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس سے جو شریف لوگ تھے ان کی مزید توجہ پیدا ہوئی۔بہت سے افراد کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔1928ء میں( باوجود علالت کے وہ مختلف شہروں میں جا کے تبلیغ کر رہے تھے تو اس وقت سندھی احمدیوں کی صرف ایک جماعت تھی جو دو چار خاندانوں پر مشتمل تھی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے 50 جماعتیں وہاں قائم ہو گئیں۔) مولانا بشارت بشیر صاحب بھی لکھتے ہیں کہ سنجوگی قوم نے قبول اسلام کے بعد غیر مسلم اقارب سے رشتے ناطے جاری رکھے اور یہی وجہ ان کے ایمان کی کمزوری کی ہوئی۔بعد میں پھر آہستہ آہستہ وہ احمدیت سے بھی اور اسلام سے بھی دور ہٹتے چلے گئے۔پس آج بھی احمدیوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ بے احتیاطی کرتے ہیں، جذباتی فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں۔غیروں میں شادیاں ہو رہی ہوتی ہیں جس سے پھر آئندہ نسلیں تباہ ہو رہی ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ پورا خاندان دین سے ہٹ جاتا ہے۔