خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 657 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 657

خطبات مسرور جلد ہشتم 657 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 کا اعتراض مسیح موعود علیہ السلام پر کرتا ، اس کے جواب کے لئے جھٹ قرآن شریف کی آیت میرے سامنے آ جاتی اور میں قرآن شریف سے اس کا جواب دیتا۔ایک دفعہ ایک مولوی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ عیسی علیہ السلام کی موت قرآن شریف سے دکھاؤ۔جہاں موت کا لفظ آیا ہو۔میں نے کہا۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ( النساء: (160)۔یعنی اب کوئی بھی اہل کتاب قرآن شریف کے اس فیصلہ کو پڑھ کر کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی اور قتل کی موت سے نہیں مرے بلکہ اپنی طبعی موت سے مرے ہیں۔طبعی موت پر ایمان لانے سے پہلے ایسی بات پر ایمان لائیں گے کہ سولی اور قتل کی موت سے نہیں مرے۔یہ کی ضمیر وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کی طرف ہے۔مَوْتِہ سے عیسیٰ علیہ السلام کی طبعی موت مراد ہے جس کی عیسی علیہ السلام قیامت کو گواہی دیں گے کہ میں سولی اور قتل کی موت سے نہیں مرا بلکہ قرآن شریف کے فیصلہ کے مطابق طبعی موت سے مرا ہوں۔وہ مولوی اس بات کو سن کر جھٹ بھاگ گیا۔اور اس وجہ سے وہاں کے گاؤں کی اکثریت احمدی ہو گئی تھی لیکن بعد میں پھر مولویوں کے ورغلانے پر اور ڈرانے پر کچھ لوگ پھر بھی گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 4 صفحہ 107 تا 112 روایت حضرت بہاول شاہ صاحب۔غیر مطبوعہ ) حضرت مدد خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو انسپکٹر بیت المال قادیان بھی تھے ، کشمیر کے رہنے والے تھے۔1896ء میں بیعت، 1904ء میں زیارت۔کہتے ہیں کہ اے میرے پیارے خدا! کہ میں تیرے پاک نبی کے حالات لکھنے لگا ہوں تو اس میں برکت ڈال۔اس میں کوئی بناوٹی بات نہ لکھی جائے۔اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ 1904ء میں جبکہ کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا گورداسپور میں چند و لعل کی عدالت میں اپنی طرف سے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب تھے۔اور کرم دین کی طرف سے مول راج و نبی بخش وکیل تھے قادیان سے خاکسار، سید احمد نور صاحب اور حافظ حامد علی صاحب گڑے پر کتابیں لے کر گورداسپور پہنچے۔تو دیکھا کہ ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کڑیانی والے بہت ہی بگڑے ہوئے ہیں۔میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو اتنی گھبراہٹ کیوں ہے؟ فرمایا بھائی صاحب ! مجھ کو اس واسطے گھبراہٹ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ یہاں پر یہ مشورہ کیا گیا ہے کہ حضور کو ضرور ہی حوالات میں دیا جائے چاہے پانچ منٹ کے واسطے ہی کیوں نہ ہو۔مگر ضرور ہی آپ کو حوالات میں دیا جائے۔چند و لعل نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہوا ہے۔مجھ کو یہ خبر ایک بڑے افسر نے دی ہے۔میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ اب آپ کیا چاہتے ہیں۔کیا کرنا چاہئے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کوئی ثواب کا کام کرے حضور کو یہ پیغام پہنچا دے کہ آپ گورداسپور نہ آئیں۔بیماری کا سرٹیفیکیٹ لے لیں۔اگر سور و پیہ بھی خرچنا پڑے تو خرچ کر دیں۔میں خود ادا کر دوں گا۔میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ کیا حضور جھوٹا سرٹیفیکیٹ لیں ؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا بھائی صاحب! اگر کسی نے ثواب لینا ہے تو لے۔میں نے کہا کہ کیا اسی وقت کوئی جائے؟ کہا ہاں۔اس کے بعد میں