خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 656
خطبات مسرور جلد ہشتم 656 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 اختیار ہو کر حضور کے پاس بیٹھا۔اور خوشی سے حضور کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے اور ہم دونوں شخصوں نے بیعت کی اور بعد میں حضور سے مقدمہ کے بارہ میں دعا کے لئے عرض کی۔حضور نے دعا فرمائی اور میں اس کے بعد دس دن وہاں ٹھہرا۔کہتے ہیں کہ حضور سے اور قادیان سے ایسی محبت ہو گئی کہ واپس گھر جانے کو جی نہ چاہتا تھا۔قادیان بالکل بہشت کا نمونہ دکھائی دیتا تھا۔یہاں ہر وقت سوائے خدا کے ذکر کے دنیا کے ذکر و فکر کی آواز تک سنائی نہ دیتی تھی۔ہر طرف سے سلاماً سلاما کی آواز آتی تھی۔میرے سارے غم واند وہ دور ہو گئے۔اس وقت حضور علیہ السلام پر قتل کا جھوٹا مقدمہ جو پادریوں کی سازش سے ایک لڑکے کے ذریعہ تھا چل رہا تھا یا چل چکا تھا۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں اجازت لے کر پھر آگیا لیکن کہتے ہیں کہ بیعت کرنے پر میری حالت بالکل تبدیل ہو گئی۔خدا کے ساتھ ایسی محبت اور عشق پیدا ہو گیا کہ رات دن سوائے اُس کے ذکر کے سونے کو بھی دل نہ چاہتا تھا۔اگر سوتا تھا تو دھڑ دھڑا کر ( یعنی گھبر اکر) اٹھتا تھا جیسے کوئی اپنے پیارے سے علیحدہ ہو گیا ہوتا ہے۔میرے دل کی عجیب حالت تھی۔گاہ گاہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی دل کو پکڑ کر دھوتا ہے۔خشوع خضوع ہر روز بڑھتا جاتا تھا۔یہ حضور کی توجہ کا اثر تھا۔ایک دن خشوع کی حالت میں ایسا معلوم ہوا کہ میرا دل چیر ا گیا اور اس کو دعا کر کے دھو دیا گیا اور ایک نئی روح اس میں داخل ہو گئی ہے۔جسے روح القدس کہتے ہیں۔میری حالت حاملہ عورت کی طرح ہو گئی۔مجھے اپنے پیٹ میں بچه سا معلوم ہو تا تھا۔میر اوجود ایک لذت سے بھر گیا اور نورانی ہو گیا اور نور سینے میں دوڑتا معلوم ہو تا تھا۔ذکر کے وقت زبان میں ایسی لذت پیدا ہوتی تھی جو کسی چیز میں وہ لذت نہیں۔میرے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو بھی نمازوں میں بہت لذت آتی تھی۔اور خوش ہو کر کہتے تھے کہ کیسی اچھی نماز پڑھائی ہے۔یہ حالت اصل میں میری حالت نہ تھی بلکہ مسیح موعود کی حالت کا نقشہ تھا۔مقدمہ تو خدا کے فضل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں سے میرے دار الامان ہوتے ہی جاتا رہا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچانے کا یہ سبب بنایا تھا جس کے ذریعہ اپنے ناچیز بندے کو آسمانوں کی سیر کرائی اور اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔میں مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کو لے کر اکیلا مسجد میں بیٹھتا اور خوب غور سے سب کا مطالعہ کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل کو قرآن شریف کی آیتوں کے مطابق پاتا۔ایک دن میں ایک مخالف کی کتاب دیکھ رہا تھا اور دل میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ کیسے عالم ہیں جو ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں۔یہ خیال آتے ہی نیند آگئی اور سو گیا اور الہام ہوا۔بَلْ عَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ قَوْمٌ مُنْذِرُ یہ الہام میرے دل پر ایسا داخل ہوا جیسے کوئی چیز نالی کے راستے داخل ہوتی ہے۔دل پر آتے ہی زبان پر جاری ہو گیا۔اور اس الہام کے یہ معنی سمجھائے گئے کہ یہ عالم (یہ مولوی لوگ جو ہیں) ایک ایسی قوم ہیں جب ان کے پاس ڈرانے والی قوم آئی۔یعنی نبی، تو یہ تعجب ہی کرتے رہے ہیں۔میں اپنے الہاموں اور خوابوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھتار ہتا تھا۔جب کوئی کسی قسم