خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 658

خطبات مسرور جلد هشتم 658 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 نے کہا آپ مجھ کو لالٹین لے دیں۔میں ابھی رات رات ہی چلا جاتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب نے اسی وقت مجھے لالٹین دی۔میں گورداسپور سے قادیان کو روانہ ہوا اور رستے میں مجھے دو آدمی بھی مل گئے۔شیخ حامد علی صاحب اور منشی عبد الغنی صاحب۔دو بجے ہم مسجد مبارک پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر تشریف لائے جب ہم نے آواز دی۔تو السلام علیکم بعد میں نے عرض کیا۔ڈاکٹر اسماعیل صاحب کی بہت ہی بری حالت ہے انہوں نے یہ پیغام دے کر مجھے واپس بھیجا ہے۔تو حضور نے فرمایا کہ چکروں کی بیماری تو مجھے پہلے ہی ہے اور سرٹیفیکیٹ لینے کا ارادہ تو میر اپہلے ہی تھا مگر ( اب جو پیغام دیا اور روکا ہے ) اب تو میں گورداسپور ہی جاکر سرٹیفیکیٹ حاصل کروں گا۔اب یہاں نہیں رکوں گا۔خوف والی کوئی بات نہیں۔آپ نے اندر سے میرے واسطے رضائی بھجوائی۔میں سو گیا۔تھکا ہوا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گورداسپور روانہ ہو گئے۔وہاں قادیان میں رُکے نہیں۔خیر ایک لمبی کہانی ہے۔کہتے ہیں میں سویا رہا۔اس کے بعد مجھے لوگوں نے روکا بھی کہ اب تم نہ جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام روانہ ہو چکے ہیں بلکہ پہنچے بھی گئے ہوں گے۔لیکن جب میری آنکھ کھلی اس کے بعد میں تیار ہو کے دوبارہ پیدل چل پڑا۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اب یہ پیدل نہ آئے بلکہ ٹانگے پر بھیجنا۔بہر حال کہتے ہیں رستے میں میری بہت بری حالت ہو گئی۔مجھے بخار بھی چڑھ گیا اور لوگوں نے مجھے صحیح روکا تھا کہ نہ جاؤ۔یہ تمہارا تیسرا چکر ہے۔تھکے ہوئے ہو گے اور تمہیں سختی کی عادت بھی نہیں ہے۔لیکن بہر حال کہتے ہیں میں وہاں پہنچ گیا۔شام کے وقت اس مکان میں پہنچا جہاں حضور ٹھہرے ہوئے تھے تو دروازے کے اندرا بھی داخل ہی ہوا تھا کہ میرے کان میں آواز آئی کہ کیا مدد خان کو بھی یگہ پر بٹھا کر لے آئے تھے یا نہیں۔تو یہ آواز میرے کان میں آ گئی۔جیسے کوئی سویا ہوا جاگ اٹھتا ہے اسی طرح میں بھی یہ آواز سن کر جاگ اٹھا۔جب میں صحن میں پہنچا تو کسی دوست نے آواز دی کہ حضور مدد خان آگیا ہے۔میں نے بھی جا کر حضور کو السلام علیکم عرض کیا۔حضور نے جھٹ اپنا دست مبارک آگے کیا۔میرے ہاتھ کو پکڑ کر فرمانے لگے۔جزاک اللہ۔یہ بہت ہی بڑے بہادر ہیں یہ ان کا تیسرا چکر ہے۔(یعنی قادیان اور گورداسپور کے درمیان) حضور نے میر ہا تھ اپنے ہاتھ مبارک میں یہاں تک پکڑا تھا۔مجھے محسوس ہوا کہ گویا کہ میں گورداسپور سے کبھی قادیان گیا ہی نہیں۔یا تو میری حالت نیند و تھکان سے سخت مضطرب ہو رہی تھی کہ کسی کے ساتھ بولنے کو بھی دل نہیں کرتا تھا اور بدن میں بخار ہو رہا تھا۔مگر خدائی نشان خدا کے مرسل نے اس خاکسار کا ہاتھ نہ چھوڑا جب تک کہ میں نے محسوس کیا کہ میری تھکان بالکل اتر گئی ہے۔چند منٹ پہلے میں مردہ تھا۔حضور کا دستِ مبارک میرے ہاتھ کو لگتے ہی میری کوفت اتر گئی۔تھکان دور ہوئی۔بدن ہلکا پھلکا ہو گیا۔اور کوئی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔یہ کیا بات ہے ! یہ تو حضور ہی کی کوئی کرامت ہے۔مجھ کو اس وقت یہ خیال ہوا کہ مان لیا بھوک اور پیاس کسی خوشی سے دور ہو سکتی ہے۔مگر یہ کوفت ، تھکان، نیند کا غلبہ حضور کے دستِ